انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 193

انوار العلوم جلد ۲ بسم الله الرحمن الرحیم ۱۹۳ برکات خلافت محمدہ و نصلی علی رسوله الكريم بقیہ تقریر حضرت خلیفة المسیح الثانی (جو ۷ ۲ دسمبر ۱۹۱۴ء کو سالانہ جلسہ پر بعد از نماز ظهر و عصر ہوئی) اشْهَدُ انْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَريكَ لَةَ وَاشْهَدانَ مُحَمَّداً عَبْدُ لَهُ وَاشْهَدانَ مُحَمَّد عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَمَّا بَعْدُ فَاعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ إِيَّاكَ نَعْبُدُو إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ( آمين ۔ اللہ تعالی کا کیا ہی احسان ہے مسلمانوں پر اور کیا ہی فضل ہے اپنے بندوں پر کہ ایک مسلمان دنیا میں کسی کے آگے کسی معاملہ میں شرمندہ نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں ناجائز تعصب - ضد اور ہٹ ایسی چیزیں ہیں جو کہ بہت بری ناپسندیدہ اور مکروہ ہیں مگر مسلمان کو اللہ تعالیٰ نے ایسے بلند مرتبہ پر کھڑا کیا ہے کہ دنیا کا اور کوئی انسان اس منصب تک نہیں پہنچ سکتا۔ میں مضمون تو اور بیان کرنے لگا تھا۔ لیکن سورہ فاتحہ کے پڑھنے سے ایک بات یاد آگئی ہے وہ بیان کئے دیتا ہوں۔ اور وہ یہ کہ انسان کسی بات کے متعلق فیصلہ کرنے میں بہت ٹھوکریں کھاتا ہے کیونکہ اس کی عقل محدود ہوتی ہے دیکھو ایک وہ زمانہ تھا جبکہ خیال کیا جاتا تھا کہ آسمان مختلف دھاتوں کے بنے ہوئے ہیں۔ پھر فلسفیوں نے کہا کہ نہیں آسمان منتہائے نظر ہے اور کوئی مادی چیز نہیں اور خبر نہیں کہ کل کیا اور پرسوں کیا ثابت ہو ۔ یہی حال تمام علوم کا ہے۔ جو علوم آج سے سو سال پہلے تھے وہ آج نہیں ہیں اور ہی ہیں۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ ایک سورج ہے اور باقی سارے ستارے اس سے متعلق ہیں لیکن آج کل معلوم ہوا ہے کہ کئی ستارے ایسے ہیں جو اتنی دور اور ا ور اور اتنے بڑے ہیں کہ اب جا کرار جاکر ان کی روشنی ہم تک پہنچی ہے اور وہ سورج سے کئی گنا بڑے ہیں۔ کسی زمانہ میں خیال کیا جاتا تھا اور یہ مشہور مقولہ ہے کہ قطب نما