انوارالعلوم (جلد 2) — Page 192
انوار العلوم جلد ۲ ۱۹۲ برکات خلافت کالج کی آخری کلاس میں پڑھتے ہیں سنادی تھی اور ان سے گواہی لی جاسکتی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ان کو یہ رویا یاد ہو گی۔ ممکن ہے کہ اور دوستوں کو بھی سنائی ہو لیکن اور کسی کا نام یاد نہیں ہم اس وقت اس رویا پر حیران ہوا کرتے تھے کہ یہ قدوں کا ناپنا کیا معنی رکھتا ہے نہ خلافت کا سوال تھا نہ خلیفہ کی بیعت کا حضرت مسیح موعود زندہ تھے کون سمجھ سکتا تھا کہ کبھی واقعات بدل کر اور کی اور صورت اختیار کرلیں گے مگر خدا کی باتیں پورے ہوئے بغیر نہیں رہتیں۔ مولوی محمد علی صاحب کے دوستوں نے انہیں میرے مقابلہ پر کھڑا کیا اور اللہ تعالی نے ان کو سخت نا کام کیا۔ حتی کہ انہوں نے اپنی ذلت کا خود اقرار کیا جس قدر بھی ان کے دوستوں نے زور مارا کہ ان کو اونچا کریں اس قدر خدا تعالیٰ نے ان کو نیچا کیا اور قریباً ستانوے فی صدی احمدیوں کو میرے تابع کر دیا اور میرے ذریعہ جماعت کا اتحاد کر کے مجھے بلند کیا۔ اب میں آخر میں تمام راستی پسند انسانوں کو کہتا ہوں کہ اگر وہ اب تک خلافت کے مسئلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکے تو اب بھی فیصلہ کرلیں کیونکہ یہ کام خدا کی طرف سے ہوا ہے اور کسی انسان کا اس میں دخل نہیں۔ اگر آپ اس صداقت کا انکار کریں گے تو آپ کو حضرت مسیح موعود کی صداقت کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ پس حق کو قبول کریں اور جماعت میں تفرقہ نہ ڈالیں۔ میں کیا چیز ہوں؟ میں جماعت کا ایک خادم ہوں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس جماعت کو متحد کرنا چاہتا ہے ورنہ کام تو سب اللہ تعالیٰ کا ہے۔ مجھے خلافت کا نہ کوئی شوق تھا اور نہ ہے مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کام پر مقرر کر دیا تو میں ہو گیا۔ میرا اس میں کوئی دخل نہیں۔ اور آپ ان باتوں کو سن کر یہ بھی اندازہ کر سکیں گے کہ جبکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے قبل از وقت خلافت کا جھگڑا خلیفہ کی صداقت، خلیفہ اول کی وفات کا سن مہینہ “ آپ کی را وصیت میرا گاڑی میں آپ کی وفات کی خبر سننا آپ کی بیماری کا حال سب کچھ بتا دیا تھا تو کیا ایک لمحہ کے لئے بھی میرا دل متردد ہو سکتا تھا۔ اور جبکہ بعض دوسری رویا نے وقت پر پوری ہو کر بتا دیا کہ منشائے الہی یہی تھا کہ میں ہی دو سرا خلیفہ ہوں اور میری مخالفت بھی ہو اور کامیابی میرے لئے ہو تو کیا میں خلافت کے متعلق ان لوگوں کا مشورہ سن سکتا تھا جو مجھے مشورہ دیتے تھے کہ میں اب بھی اس کام کو ترک کردوں۔ کیا میں منشائے الہی کے خلاف کر سکتا ہوں۔ اگر میں ایسا کروں تو میں خدا تعالی کے فیصلہ کو رد کرنے والا ہوں گا۔ اور اللہ تعالیٰ مجھے اس حرکت سے محفوظ رکھے ۔ خدا ۔ - خدا نے جو چاہا وہ ہو گیا اور جو لوگوں نے چاہا وہ نہ ہوا۔ مگر مبارک ہے وہ جو خدا کے فیصلہ کو قبول کرے اور اس قدر آسمانی شہادتوں کے بعد ضد اور ہٹ سے کام نہ لے۔