انوارالعلوم (جلد 2) — Page 173
انوار العلوم جلد ؟ سپردم ۱۷۳ برکات خلافت بتو مایه خویش را بیش را تو دانی حساب کم مسیح موعود اللہ تعالیٰ کو اپنا سرمایہ پیش کرتے ہیں۔ کیوں اس لئے کہ اللہ تعالٰی اس کی حفاظت کرے۔ اور یہ خدا تعالیٰ نے خود فرمایا کہ تم اپنی جماعت کو میرے سپرد کر دو ۔ ہم اس کی حفاظت کریں گے ۔ اب اگر منکرین خلافت کی بات مان لی جائے تو خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کی جماعت کی اچھی حفاظت کی کہ اس کا پہلا اجماع ضلالت پر کروا دیا ۔ مسیح موعود نے جماعت کو خدا کے سپرد کیا تھا۔ خدا نے اس جماعت کو نور الدین کے سپرد کر دیا۔ جس کی نسبت ( نعوذ باللہ ) کہا جاتا ہے کہ گمراہی تھی کیا خدا تعالیٰ کو یہ طاقت نہ تھی کہ نور الدین سے جماعت کو چھڑا لیتا ؟ اور گمراہ نہ ہونے دیتا۔ طاقت تھی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا جس سے ثابت ہوا کہ جماعت کا اجماع غلطی پر نہ تھا بلکہ خدا تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت تھا۔ یہی باتیں نہیں ہیں جنہوں نے مجھے اپنی بات پر قائم رکھا بلکہ ان سے بھی بڑھ کر ہیں اور میں نے اپنے قیاس پر ہی اس بات کو نہیں چلایا بلکہ یقینی امور پر سمجھا ہے۔ اور وہ ایسی باتیں ہیں کہ جن کی وجہ سے میں اس سے ہٹ نہیں سکتا۔ اور وہ زمین کی گواہی نہیں ہے بلکہ آسمان کی گواہی ہے۔ وہ آدمیوں کی گواہی نہیں بلکہ خدا کی گواہی ہے۔ پس میں اس بات کو کس طرح چھوڑ سکتا ہوں۔ ساری دنیا بھی اگر مجھے کہے کہ یہ بات غلط ہے تو میں کہوں گا کہ تم جھوٹے ہو اور جو کچھ خدا تعالیٰ کہتا ہے وہی سچ ہے کیونکہ خدا ہی سب بچوں سے سچا ہے۔ ہیں کہ آپس میں صلح ہو جانی چاہئے ۔ کیا ان لوگوں کا جو یہ عقیدہ ہو؟ بعض لوگ کہتے صلح کیونکر ہو ؟ ہے کہ خلیفہ نہیں ہونا چاہئے وہ اس کو چھوڑ دیں گے۔ یا ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ہیں کہ خلیفہ ہونا چاہئے ہم اسے چھوڑ دیں گے۔ اگر نہیں چھوڑیں گے تو دو نہایت متضاد خیالات کے لوگوں کا اکٹھا کام کرنا اور ہر ایک کا یہ خیال کرنا کہ دو دوسرے فریق کے خیالات سلسلہ کے لئے سخت نقصان دہ ہیں اور زیادہ اختلاف کا باعث ہو گایا امن کا؟ میں تو صلح کے لئے تیار ہوں اور میں اس باپ کا بیٹا ہوں جس کو صلح کا شہزادہ کہا گیا ہے لیکن وہ صلح جو دین کی تباہی کا باعث ہوتی ہو وہ میں کبھی قبول نہیں کر سکتا۔ مگر وہ صلح جس میں راستی کو نہ چھوڑنا پڑے اس کے کرنے کے لئے مجھ سے زیادہ اور کوئی تیار نہیں ہے مجھے حضرت مسیح کی وہ تمثیل بہت ہی پسند ہے جو کہ لوقا باب ۱۵ میں لکھی ہے کہ کسی شخص کے دو بیٹے تھے۔ ان میں سے چھوٹے نے باپ سے کہا کہ اے