انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 172

انوار العلوم جلد ۲ ۱۷۲ برکات خلافت موعود علیہ السلام کی وفات کو ایک دن بھی گزرنے نہ پایا تھا۔ کہ جماعت احمدیہ نے خلافت پر اجماع ا کیا۔ کیا نعوذ باللہ یہ گمراہی پر اجماع تھا؟ ہر گز نہیں۔ ہمیں یہ سنایا جاتا ہے ۔ کہ کیا ہم منافق ہیں ؟ ہم کہتے ہیں کہ ہم سب کو منافق نہیں کہتے ۔ ہاں جس کے دل میں صداقت کا نام بھی نہیں اور جو بول اٹھے کہ میں منافق ہوں اسے ہم منافق کہتے ہیں۔ تو ہم کہتے ہیں کہ بقول ان کے مان لیا کہ اس وقت جماعت کے بیسویں حصہ نے بیعت کی ہے مگر اس وقت یعنی حضرت مسیح موعود کی وفات کے وقت تو ساری جماعت نے ایک خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرلی تھی۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت جماعت نے گمراہی پر اجماع کیا تھا۔ لیکن یہ نظیر پہلے کہیں سے نہ ملے گی۔ حضرت مسیح کی وفات پر حضرت مسیح موعود بہت بڑی دلیل تو فَلَمَّا تَوَ فَيْتَنِي كُنْتَ انْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ (سورہ مائدہ: ۱۱۸) کی دیا کرتے تھے اور دوسری بڑی بھاری دلیل صحابہ کے "اجماع" کو بتلاتے تھے ۔ مگر آج کہا جاتا ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد چھ سال تک جماعت احمدیہ کا اجتماع گمراہی پر رہا ہے۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ ان لوگوں کے بعد جنہوں نے حضرت مسیح موعود کو دیکھا اور آپ کی صحبت سے فیض اٹھایا دوسرے لوگ کسی غلط مسئلہ پر اجماع کر لیں مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کے صحابی ایسا کریں۔ اگر یہ لوگ ہی ایسا کریں تو حضرت مسیح موعود کے دنیا میں آنے کا فائدہ ہی کیا ہوا۔ اس میں شک نہیں کہ ہم میں سے کچھ لوگ کمزور بھی ہیں۔ لیکن کیا آنحضرت اللہ کے وقت منافقوں کا گروہ نہیں تھا۔ اور کیوں بعض اشخاص کو جو کہ آپ کے صحابہ کے گروہ میں شامل رہتے تھے ! اب الرعية اللہ نہیں کہا جاتا حتی کہ ان کو صحابی بھی بھی نہیں کہا جاتا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ منافق تھے۔ وہ زبان سے آنحضرت ﷺ کو مانتے تھے لیکن ان کا دل نہیں مانتا تھا۔ اسی طرح اب ہم کہتے ہیں کہ جو دل سے مسیح موعود کے احکام کو مانتے رہے اور مانتے ہیں ان کو ہم آپ کے صحابہ میں سے کہیں گے اور جو نہیں مانیں گے ان کو نہیں کہیں گے ۔ کیا عبداللہ بن الی آنحضرت ا کے ساتھ نہیں رہتا تھا اور آپ کے صحابہ میں شامل نہیں تھا مگر اس کو صحابہ میں اس لئے شامل نہیں کیا جاتا کہ وہ منافق تھا۔ اسی طرح اگر حضرت مسیح موعود کے ساتھ رہنے والوں میں سے کوئی ٹھو کر کھائے۔ تو یہ اس کا اپنا قصور ہے نہ کہ اس کا حضرت مسیح موعود کی صحبت میں رہنا اس ٹھوکر کے نقصان سے اسے بچا سکتا ہے۔ پھر میں کہتا ہوں کہ یہ ہمارا قیاس ہی قیاس نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد ساری جماعت کو ٹھو کر نہیں لگی۔ بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا تھا۔