انوارالعلوم (جلد 2) — Page 162
انوار العلوم جلد ۲ ۱۶۲ برکات خلافت پاس بھی دونوں چیزیں تھیں۔ لیکن اب جبکہ خدا تعالٰی نے حضرت مسیح موعود کو حکومت نہیں دی تو اس کا خلیفہ کس سے لڑتا پھرے کہ مجھے حکومت دو۔ ایسا اعتراض کرنے والے لوگوں نے خلیفہ کے لفظ پر غور نہیں کیا۔ اگر کوئی شخص یہاں بیٹھے ہوئے آدمیوں کی پگڑیوں ، ٹوپیوں اور کپڑوں کو دیکھ کر یہ لکھ لے کہ آدمی وہی ہوتے ہیں جن کی پگڑیاں، ٹوپیاں اور کپڑے ان کی طرح ہوتے ہیں اور باہر جاکر کسی شخص کو اس اپنے مقرر کردہ لباس میں نہ دیکھے تو کہے کہ یہ تو آدمی ہی نہیں ہو سکتا تو کیا وہ بیوقوف نہیں ہے؟ ضرور ہے۔ اسی طرح اگر کوئی چند غیوں کے خلیفوں کو دیکھ کر کہے کہ ایسے ہی خلیفے ہو سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ اور کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا تو کیا اس کی بات کسی عقلمند کے نزدیک ماننے کے قابل ہے ؟ ہرگز نہیں۔ اس کو چاہئے کہ خلیفہ کے لفظ کو دیکھے اور اس پر غور کرے۔ اس وقت خلیفہ کے لفظ کے متعلق عربی علم سے ناواقفیت کی وجہ سے لوگوں کو غلطی گئی ہے۔ خلیفہ اس کو کہتے ہیں (۱) جو کسی کا قائم مقام ہو (۲) خلیفہ اس کو کہتے ہیں جس کا کوئی قائم مقام ہو (۳) خلیفہ وہ جو احکام و او امر کو جاری کرتا اور ان کی تعمیل کراتا ہے ۔ پھر خلیفے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک تو اصل کے مرنے کے بعد ہوتے ہیں۔ اور ایک اس کی موجودگی میں بھی ہوتے ہیں۔ مثلا وائسرائے شہنشاہ کا خلیفہ ہوتا ہے۔ اب اگر کوئی وائسرائے کو کہے کہ چونکہ اسے دین سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لئے یہ شہنشاہ کا خلیفہ نہیں ہو سکتا۔ تو یہ اس کی بہت بڑی غلطی ہے کیونکہ وہ جس باد بادشاہ بادشاہ کا نائب ہے اس کے پاس صرف حکومت ہی ہے اس لئے وائسرائے حکومت میں ہی اس کا خلیفہ ہے نہ کہ دین میں۔ تو یہ ایک موٹی بات ہے جس کو بعض لوگ نہیں سمجھے یا نہیں سمجھنا چاہتے۔ پھر یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود" حضرت مسیح دوسرا اعتراض اور اس کا جواب اسرائیلی کے مثیل تھے اس لئے ان کے خلفاء بھی ایسے ہی ہونے چاہئیں جیسے کہ مسیح اسرائیلی کے ہوئے لیکن چونکہ حضرت مسیح اسرائیلی کے بعد خلافت کا سلسلہ ثابت نہیں ہے۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد بھی کوئی خلیفہ نہیں ہوتا چاہئے۔ اول تو یہ بات ہی بہت عجیب ہے۔ ہم تو یہ مانتے ہیں کہ حضرت مسیح نے صلیب پر وفات نہیں پائی۔ اور صلیب کے واقعہ کے بعد اسی سال تک زندہ رہے ہیں۔ لیکن انجیل جس سے ان کے بعد کی خلافت کا سلسلہ نہیں نکلتا وہ تو ان کی صلیب کے واقعہ تک کے حالات زندگی کی تاریخ ہے۔ پس اس سے خلافت کا کس طرح پتہ لگ سکتا ہے۔ یہ تو ویسی ہی بات ہے کہ کوئی شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب براہین احمدیہ پیش کر کے کہے کہ اس میں تو خلافت کا کوئی ذکر نہیں اور نہ ہی کسی