انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 137

انوار العلوم جلد ۲ ۱۳۷ تحفة الملوك آپ نے اسی پر بس نہیں کی کہ مسیحیوں کو بتا دیا کہ اسلام مسیح کے زندہ آسمان پر جانے کا قائل نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ سے ایک اور زبردست کام کروایا کہ آپ نے اناجیل اور تو اریخ سے یہ امر ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح واقعہ صلیب کے بعد زندہ بیچ کر کشمیر میں آئے تھے اور کشمیر کی تاریخوں سے ثابت کر دیا کہ وہاں ایک مقبرہ موجود ہے جسکی نسبت لکھا ہے کہ یہ ایک نبی کا مقبرہ ہے جن کا نام عیسی مسیح تھا اور وہ آنحضرت ا سے چھ سو سال پہلے یہاں آئے تھے اور طب کی کتابوں سے اس واقعہ کی تصدیق ہوتی ہے کیونکہ کتب طب میں ایک مرہم ، مرہم حواریین یا مرہم عیسی کے نام سے مشہور ہے جسکی نسبت لکھا ہے کہ وہ حضرت مسیح کے حواریوں نے آپ کے زخموں پر لگانے کے لئے بنوائی تھی اور آپ کے زخم ( تاریخ سے) سو اصلیب کے زخموں کے اور ثابت نہیں۔ میں اس جگہ یہ بیان کر دینا بھی مناسب خیال کرتا ہوں کہ یہ عقیدہ کہ حضرت مسیح صلیب پر چڑھائے گئے تھے لیکن زندہ بچ گئے قرآن کریم کی آیت کا صلبوں کے خلاف نہیں کیونکہ صلب کے معنے صلیب پر لٹکانے کے نہیں ہیں بلکہ صلیب پر مارنے کے ہیں جیسا کہ لسان العرب وغیرہ مشہور کتب لغت میں درج ہے ۔ غرض کہ حضرت مسیح ناصری کی کشمیر کی طرف ہجرت آپ نے اناجیل، تواریخ بنی اسرائیل اور تواریخ کشمیر سے ثابت کر کے اور پھر آپ کی قبر کا پتہ لگا کر مسیحی مذہب کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیا ہے اور جسقدر مسیحیوں کو اس کا علم ہو گا اسی قدر وہ مسیحیت سے بیزار ہو کر اسلام کی طرف راغب ہو نگے چنانچہ آپ نے جس وقت سے یہ تحقیقات شائع کی ہے کشمیر میں کثرت سے یہ ت سے یورپین سیاح اس قبر کو دیکھنے جاتے ہیں اور گو یورپ میں ابھی اس تحقیقات کی کافی طور پر اشاعت نہیں ہوئی مگر پھر بھی ایک تہلکہ پڑ گیا ہے پچھلے دنوں میں ہی ایک شخص کا جرمن سے خط آیا ہے کہ مجھے اس مضمون کی کئی ہزار کا پیاں بھجوائی جائیں کیونکہ یہاں جن لوگوں نے آپ کے اس مضمون کو دیکھا نہایت حیران رہ گئے اور اس کی صداقت کے قائل ہو گئے۔ اصل بات یہ ہے کہ مسیحی اس واقعہ سے انکار نہیں کر سکتے کیونکہ مسیح کا قول انجیل میں اب تک موجود ہے کہ میں بنی اسرائیل کی گم شدہ بھیڑوں کو جمع کرنے کو آیا ہوں اور ادھر بائبل سے اس بات کا کافی ثبوت مل جاتا ہے کہ بنی اسرا اسرائیل کے تنزل کے ایام میں بخت نصر بادشاہ بابل بنی اسرائیل کو قید کر کے لے گیا تھا اور بعد میں جب مید اور فارس کے بادشاہوں کی مدد سے بنی