انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 128

انوار العلوم جلد ۲ ۱۲۸ تحفة الملوك انحضرت ﷺ کی وفات پر صحابہ کا اجماع بھی اسی مسئلہ پر ہوا ہے کہ کل انبیاء وفات پاگئے ہیں اور اسکی یہ وجہ ہوئی کہ آپ کی وفات پر حضرت عمرؓ کو خیال پیدا ہو گیا تھا کہ آپ ابھی زندہ ہیں اور دوبارہ تشریف لائیں گے اور آر آپ کو اپنے اس اعتقاد پر اسقدر یقین تھا کہ آپ اس شخص کی گردن اڑانے کو تیار تھے جو اسکے خلاف کے لیکن حضرت صدیق جب تشریف لائے اور آپ نے کل صحابہ کے سامنے یہ آیت پڑھی کہ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (ال عمران : ۱۴۵) تو حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ میرے پاؤں کانپ گئے اور میں صدمہ کے مارے زمین پر گر گیا اور صحابہ فرماتے ہیں کہ : کہ ہمیں یوں معلوم ہوا کہ وا کہ جیسے یہ آیت آج ہی اتری ہے اور ہم اس دن اس آیت کو بازاروں میں پڑھتے پھرتے تھے پس اگر کوئی نبی ا زندہ زندہ موجود ہو تا تو یہ استدلال درست نہیں تھا کہ جب جب سب نبی فوت ہو گئے تو آ وت ہو گئے تو آپ کیوں فوت نہ ہو تے حضرت عمرؓ کہہ سکتے تھے کہ آ۔ آپ کیوں دھوکہ دیتے ہیں حضرت مسیح ابھی زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں وہ زندہ ہیں تو کیوں ہمارے آنحضرت ا زندہ نہیں رہ سکتے مگر سب صحابہ کا سکوت اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ سب صحابہ کا یہی مذہب تھا کہ حضرت مسیح فوت ہو گئے ہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ حضرت ابن عباس کا قول نقل فرماتے ہیں کہ مُتَوَ فِيْكَ مُمِيتُكَ اسی طرح امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہیں مذہب تھا کہ مات عیسی جیسا کہ کتاب مجمع ) کتاب مجمع البحار میں لکھا ہے باقی ائمہ کا سکوت ظاہر کرتا ہے کہ وہ بھی اس عقیدہ کے مخالف نہ تھے پس وفات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ بالکل صاف ہے اور قرآن کریم اور احادیث اس کی موید ہیں جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ لَوْ كَانَ مُوسَى وَعِيسَى حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتباعى (اليواقيت والجواهر مرتبه امام شعرانی ، صفحہ ۲۰) ہاں حیات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ بعد میں مسلمانوں میں رائج ہوا ہے مگر اسکو مان کر قرآن کریم کی تکذیب لازم آتی ہے۔ کوئی تعجب نہیں کہ اس مسئلہ کے پھیلنے کا باعث الفاظ يَنْزِلُ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ بھی ہوں: جو مسیح موعود کی نسبت آئے ہیں لیکن يُنزِلُ سے يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ کسی طرح مراد نہیں ہو سکتا نہ قرآن کریم میں نہ حدیث شریف میں کہیں بھی آسمان سے اترنے کا ذکر نہیں آیا پس ینزلی کے آسمان سے اترنے کے معنی لینے درست نہیں ہو سکتے يَنْزِلُ کے معنی یبعث کے ہی ہیں اور یہ لفظ مسیح موعود کی عظمت کے اظہار کے لئے استعمال کیا گیا ہے جیسے کہ دجال کے لئے خروج کا لفظ ہے نزول کا لفظ ہمارے آنحضرت ا کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے جیسے کہ فرمایا کہ قَدْ انْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ