انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 127

انوار العلوم جلد ۲ ۱۲۷ تحفة الملوك درجہ میں زیادہ ہیں اور اگر پہلے بڑے درجہ کی اشیاء پر فضیلت ظاہر کی جائے گی تو انکے بعد چھوٹے درجہ پر فضیلت کا ظاہر کرنا تحصیل حاصل ہو گا اور وہ حصہ کلام کا لغو اور بے فائدہ ہو گا پس اس موقعہ پر چونکہ مَا عِنْدَ الله کی فضیلت ظاہر کرنی مقصود تھی ضروری تھا کہ پہلے لہو کو بیان کیا جاتا جو تجارت سے ادنی درجہ کی چیز ہے ورنہ کلام کی عظمت زائل ہو جاتی غرض کہ اس آیت نے تو ثابت کر دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں ترتیب کا پور الحاظ رکھا جاتا ہے اور کوئی لفظ اپنی جگہ سے ہلایا نہیں جاسکتا۔ میرا ان دونوں مثالوں کے بیان سے یہ مطلب ہے کہ قرآن کریم کی کسی آیت کی نسبت اپنے خیالات کے مطابق معنے کرنے کے لئے اس کے الفاظ میں تقدیم و تاخیر قرار دینی ایک خطرناک راه ہے اور کسی کا حق نہیں کہ بلا اجازت قرآن کریم اور بغیر تفسیر آنحضرت ا کے ایسی جرات کرے ورنہ امن اٹھ جائے گا اور جو شخص چاہے گا اپنی خواہش کے مطابق آگے پیچھے لفظ کر کے معنے کر لیگا میرا دل تو چاہتا تھا کہ میں جناب کو دکھاؤں کہ جس قدر آیات میں تقدیم و تاخیر فرض کرلی گئی ہے ان میں وہی ترتیب مناسب ہے جو قرآن کریم میں رکھی گئی ہے اور جنہوں نے اس کے خلاف کہا ہے وہ غلطی پر ہیں لیکن قلت گنجائش مانع ہے اس لئے میں صرف ان دو مثالوں پر ہی اکتفا کرتا ہوں جن لوگوں کو تقدیم و تاخیر کی طرف توجہ ہوئی ہے اصل میں ان کو ایک دھوکا لگا ہے کہ انہوں نے ترتیب کے لئے پہلے کچھ قوانین اپنے ذہن میں بنائے ہیں کہ ترتیب الفاظ فلاں فلاں اصول کی بناء پر ہونی چاہئے لیکن چونکہ انسانی دماغ کمزور ہے وہ بہت سی وجوہات کو ترک کر گئے اگر وہ بجائے خود وجوہات کی ترتیب بنانے کے اللہ تعالیٰ کے کلام پر غور کرتے کہ اس میں کیسی ترتیب مد نظر ہے تو ان کو یہ ٹھوکر نہ لگتی آیت اِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ الَم میں بھی یہی غلطی لگی ہے اور اس کا باعث یہی ہے کہ بجائے قرآن کریم کے ماتحت اپنے خیالات کرنے کے قرآن کریم کو اپنے خیالات کے ماتحت کیا گیا اور یہ عقیدہ جماکر کہ حضرت مسیح زندہ ہیں قرآن کریم پر غور کیا پھر جہاں مشکل پڑی وہاں تقدیم و تاخیر کے مسئلہ کے پیچھے پناہ لے لی لیکن حق یہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع ان کی وفات کے بعد ہوا جیسا کہ کل مؤمنوں اور نبیوں کا ہوتا ہے اور اسی رفع کے حصول کے لئے مسلمانوں کو دعا سکھائی گئی ہے کہ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِی وَار فَعْنِی واجبرنی اور احادیث سے مومنوں کا رفع ثابت ہے جیسا کہ حضرت عمرؓ سے سے روایت ہے کہ يَقُولُ يَقُولُ اللهُ مَنْ تَوَاضَعَ لِى هُكَذَا رَفَعْتُهُ هُكَذَا ۔ - (مسند احمد بن ؟ مد بن جنبل جلد اول صفحه ۴ صفحه (۴۴)