انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 114

انوار العلوم جلد ۲ ۱۱۴ تحفة الملوك کا آنا ضروری ہے اور قرآن کریم میں بھی اللہ تعالی کا یہ وعدہ ہے اور یہ زمانہ بھی ایک ایسے انسان کا محتاج ہے جو اس کے مفاسد کو دور کرنے اور اسلام کو پھر قائم کرے اور اس کے دشمنوں کا مقابلہ کرے اور اندرونی اور بیرونی خرابیوں کی اصلاح کرے۔ تو اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ مجدد کہاں ہے؟ جو اس صدی کے سر پر خدائے تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوا ہے اس سوال کے جواب میں میں جناب کو بشارت دیتا ہوں کہ اللہ تعالٰی کی رحمت نے ہمیں بھی اس سے محروم نہیں رکھا اور اپنے فضل سے اس صدی کے سر پر بھی ایک عظیم الشان انسان مبعوث کیا ہے جو اپنی شان میں پہلے تمام مجد دین سے اعلیٰ اور ارفع ہے اور ان کا نام مرزاغلام احمد صاحب قادیانی ہے جن کو اللہ تعالی نے مسیح موعود اور مہدی مسعود کا درجہ عطا فرما کر دنیا میں بھیجا اور وہ اپنا کام کر کے اپنے وقت پر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اور انہیں کے دعوی کے متعلق مجھے اشارہ ہوا ہے کہ میں جناب کو واقفیت بہم پہنچاؤں۔ جیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں اس وقت اسلام کی حالت ایسی کمزور ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایسی نہیں ہوئی اور اس قدر بیرونی اور اندرونی دشمن پیدا ہو گئے ہیں کہ ان کے حملوں کا دفعیہ بجز تائید الہی نہیں ہو سکتا اور اگر ان مفاسد کے دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی سامان نہ کیا جاتا تو اسلام کا انجام سوائے تباہی کے اور کچھ نہ ہوتا کیونکہ اب انسانی تدابیر سے کچھ نہیں ہو سکتا۔ وجہ یہ کہ طبیب اور مریض سب بیمار ہیں اور علماء و صوفیاء و امراء و عوام سب کے سب غافل اور دین سے بے بہرہ ہو رہے ہیں اور بدیوں کا سیلاب ایسے زور سے انڈا چلا آرہا ہے کہ اس کے روکنے کی کسی انسان کو طاقت نہیں ۔ بلکہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس قدر دین سے بے پرواہی اس وقت ہے اس کی نظیر دنیا میں اس سے پہلے کبھی نہیں ملتی اور اس کا بڑا سبب یہی ہے کہ دنیاوی ترقیات جو اس زمانہ میں ہوتی ہیں پہلے کبھی نہیں ہوئیں اور جس قدر ترغیب و تحریص زیادہ ہوتی ہے اس قدر انسان گناہ میں زیادہ مبتلاء ہوتا ہے۔ پس دنیاوی عیش و آرام کے سامان اور دنیاوی علوم کی ترقی ایسے انتہائی نقطہ کو پہنچ گئی ہے کہ اس سے پہلے کبھی اسے یہ درجہ حاصل نہیں ہوا۔ اسی لئے اس زمانہ میں گناہوں کی جو کثرت ہے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی اور اس زمانہ میں شیطان کا حملہ پہلے زمانوں کے حملوں سے بہت زیادہ سخت ہے کیونکہ پہلے زمانوں میں گناہوں کی کثرت عام طور سے جہالت کے طریقوں سے ہوتی تھی اور اب بدیوں اور بدکاریوں کے خیالات کو علوم کا رنگ دیگر زیادہ مضبوط طور پر لوگوں کے دلوں میں گاڑا گیا ہے اور علوم کی ترقی نے انسان کو اس