انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 113

انوار العلوم جلد ۲ ۱۱۳ تحفة الملوك کے مدعی ہوں کہ ہم اس مذہب پر چل کر خدائے تعالیٰ تک پہنچ گئے ہیں اور اس کے مکالمہ کی نعمت عظمی سے مستفید ہوئے ہیں اور ہمارا ایمان صرف سنی سنائی باتوں کی بناء پر نہیں بلکہ مشاہدات کی بناء پر ہے تو وہ بے ثمر درخت ہیں اور ان کا کوئی حق نہیں کہ اپنی صداقت کے مدعی ہوں اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ کبھی ان میں ثمر لگتا بھی تھا تو اب وہ قابل تعریف نہیں ہو سکتے کیونکہ کسی باغ کا مالک اس بات پر فخر نہیں کر سکتا کہ اس کے باغ میں پہلے اچھے پھل لگا کرتے تھے گو اب نہیں لگتے۔ جس وقت اسے پھل لگتے تھے اس وقت وہ قابل تعریف تھا اب وہ صرف ایندھن ہے اور باغ کہلانے کا مستحق نہیں اور چونکہ صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس پر چل کر ہر زمانہ میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہتے ہیں اس لئے اسلام ہی سچا مذہب ہو سکتا ہے ورنہ اور کوئی مذہب بھی اپنا یہ کمال دکھائے کہ اس پر عمل کر کے ہر زمانہ میں باکمال انسان پیدا ہوں پس یہ اسلام کی ایک خصوصیت ہے اور خدائے تعالیٰ کا آنحضرت اللہ سے وعدہ ہے کہ کم سے کم ہر صدی کے سر پر تو ایک انسان ضرور بھیجا جایا کرے گا جو تجدید دین کرے گا اب اگر ہم کسی زمانہ میں یہ خیال کرلیں کہ اسلام سے بھی یہ خوبی جاتی رہی ہے اور اب آئندہ اس میں کامل انسان پیدا ہونے بند ہو گئے ہیں تو یہ ایک ظلم ہو گا جس کی کوئی انتہاء نہیں کیونکہ اس کے معنے دوسرے الفاظ میں یہ ہونگے کہ اللہ تعالی نعوذ باللہ وعدہ خلاف ہے کہ اس نے ایک وعدہ خاتم النبین سے کیا تھا مگر کچھ مدت کے بعد اسے پورا کرنا چھوڑ دیا۔ یا اس سے یہ نتیجہ نکلے گا کہ نعوذ باللہ آنحضرت ا نے غلط بیانی کی یا یہ کہ اسلام بھی اب مردہ مذاہب میں شامل ہو گیا ہے اور اب اس میں وہ قوت قدسیہ نہیں رہی جس کی وجہ سے اسے دوسرے مذاہب پر فضیلت تھی مگر یہ سب خیالات باطل ہیں نہ تو اللہ تعالٰی وعدہ خلافی کر سکتا ہے نہ آنحضرت ا غلط بیانی کر سکتے ہیں نہ اسلام کبھی مردہ مذاہب میں شامل ہو سکتا ہے کیونکہ یہ بنی نوع انسان کے لئے آخری مذہب ہے اور اس کے بعد اور کوئی مذہب نہیں پس اگر یہ بھی مر جائے تو دنیا کی ہدایت کا کوئی سامان نہیں رہتا کیونکہ اسلام کے بعد کوئی اور نیا مذہب نہیں آسکتا اس وجہ سے کہ شریعت کامل ہو چکی ہے اور کامل شریعت کے بعد اور کسی شریعت کی ضرورت نہیں پس یہ سب خیالات باطل ہیں اسلام زندہ مذہب ہے اور قیامت تک اپنی معجزانہ قدرتوں کو ظاہر کرتا رہے گا۔ اسی ایک مذہب سے روحانی زندگی مل سکتی ہے اور اس کے سوا کوئی اور دروازہ نہیں جس میں سے ہو کر انسان خدائے تعالیٰ تک پہنچ سکے ۔ جب یہ ثابت ہو گیا کہ اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور اسلام میں ہر صدی کے سر پر ایک مجدد