انوارالعلوم (جلد 2) — Page 109
انوار العلوم جلد ۲ ۱۰۹ تحفة الملوك اب اگر اسلام سچا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام سچا ہے تو جناب خیال فرما سکتے ہیں کہ اسقدر اندرونی اور بیرونی فسادوں کے ہوتے ہوئے اللہ تعالٰی کا اسکو چھوڑ دینا اور اس کی خبر نہ اسقدر اندرونی اور بیرونی فسا لینا کسی عقلمند انسان کے خیال میں نہیں آسکتا۔ اسلام کی اس درجہ نازک حالت کے ہوتے ہوئے اور اس بات کو مانتے ہوئے کہ اسلام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے کیو نکر خیال کیا جا سکتا ہے کہ ان آفات اندرونی و بیرونی کے دور کرنے کے لئے اللہ تعالی نے کوئی سامان نہ کیا ہو گا۔ اسلام وہ دین ہے جس کی اشاعت کے لئے آنحضرت ﷺ جیسے محبوب رحمانی نے اپنی ساری عمر خرچ کر کردی دی اور اور ہر ہر قسم کا آرام اور راحت چھوڑ کر رات اور دن اس کی اشاعت میں میں لگے رہے پھر ایسے برگزیدہ انسان کی کوششوں کا وہ حشر کیونکر ہو سکتا ہے جو اس وقت اسلام کا نظر آتا ہے۔ والدین اپنی اولاد کو مصیبت میں دیکھ کر فورا ان کی مدد کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور باوجود ہزاروں قسم کی نافرمانیوں کے مصیبت میں دیکھ کر ان کارحم جوش میں آجاتا ہے تو اللہ تعالی اسلام کی اس مصیبت کو دیکھ کر کیونکر خاموش رہ سکتا ہے ضرور ہے کہ اسلام کی حالت درست کرنے کے لئے آسمان سے کوئی سامان ہو ۔ قرآن شریف بھی ہمارے اس خیال کی تصدیق فرماتا ہے جیسا کہ آیت إِنَّا نَحْنُ نَزَلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (الحجر: ۱۰) سے ظاہر ہے۔ قرآن کریم کی حفاظت دو طریق سے ہو سکتی ہے ایک لفظی اور ایک معنوی اور ہم دیکھتے ہیں کہ لفظی حفاظت کے لئے اللہ تعالی نے ہزاروں سامان پیدا کر دیتے ہیں آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے آج تک تیرہ سو سال ہو گئے ہیں دنیا کی سب مذہبی کتابیں محرف و مبدل ہو چکی ہیں لیکن قرآن کریم ابھی اپنی اسی اصلی حالت پر قائم ہے اور اس میں سے ایک شعشہ بھی کم نہیں ہوا نہ کسی قسم کی اس میں زیادتی ہوتی ہے ۔ قرآن کریم کی زبان کو بھی اللہ تعالی نے محفوظ رکھا ہے ورنہ اس وقت کوئی پرانا مذہب نہیں جس کی الہی کتاب کی زبان اس وقت دنیا میں بولی جاتی ہو ۔ سنسکرت ، پہلوی، عبرانی تین زبانوں میں اس وقت دنیا کے بڑے بڑے مذاہب کی کتابیں موجود ہیں لیکن یہ تینوں زبانیں مرچکی ہیں صرف قرآن کریم کی زبان ہی باوجود نہایت قدیم زبان ہونے کے اب تک بولی جاتی ہے اور جب سے قرآن کریم نازل ہوا ہے بجائے کم ہونے کے اور زیادہ پھیل گئی ہے اور پہلے صرف عرب میں بولی جاتی تھی مگر اب مصر ، شام ، طرابلس الجزائر ، مراکش ، بربرہ وغیرہ علاقوں میں بھی عربی ہی بولی جاتی ہے۔ کروڑوں آدمی اس