انوارالعلوم (جلد 2) — Page 108
انوار العلوم جلد ۲ ١٠٨ تحفه الملوك صرف زبانی تعلیم سے انسان پر ایسا اثر نہیں ہوتا جتنا کہ نمونہ دیکھ کر وہ متاثر ہو جاتا ہے ایک زمانہ وہ تھا کہ لوگوں تک اسلام کی خبر پہنچتی تھی اور وہ اسلام سے محبت کرنے لگ جاتے تھے مگر دنیاوی تعلقات کی وجہ سے اکثر لوگ اس میں شمولیت سے خائف ہوتے۔ لیکن جب وہ کسی مسلمان کو دیکھ لیتے تو دنیا کی کسی روک کو خاطر میں نہ لاکر ہزاروں مسلمان ہو جاتے ۔ ہندوستان کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں اسلام زیادہ اسلام زیادہ تر حضرت معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے خلفاء کے ذریعہ سے ہی پھیلا ہے مگر آجکل بالکل اس کے بر خلاف ہے۔ بہت لوگ ہیں جو اسلام کا مطالعہ کر کے اسے قبول کرنا چاہتے ہیں لیکن فطر تا انسان نمونہ دیکھنے کا خواہشمند ہو تا ہے اس لئے وہ اسلام لانے سے پہلے مسلمانوں کی حالت دیکھنا چاہتے ہیں لیکن جب کسی اسلامی ملک میں جاکر مسلمانوں کی غفلت و سستی اور ارتکاب معاصی کو دیکھتے ہیں تو انکی طبیعت اسلام سے متنفر ہو جاتی ہے۔ گویا ابتدائے عہد اسلام میں تو مسلمان اسلام کی عظمت ظاہر کرتے تھے اور اب یہ حال ہے کہ مسلمانوں کا وجود اسلام کی ترقی میں ایک سخت روک ہے جس کے سبب سے ہزاروں سعید رو میں اس سچائی کو قبول کرنے سے رک جاتی ہیں۔ چنانچه معتبر ذریعہ سے سنا گیا ہے کہ ایک انگریز اسلام کی تعلیم کا مطالعہ کر کے اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہو گیا اور اس نے اسلام کی صداقت کا اقرار کر لیا لیکن اس کے دل میں خیال آیا کہ چل کر کسی اسلامی ملک کی سیر کر کے مسلمانوں کا حال اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ ان کا کیا حال ہے اور اسلام کا عملی نمونہ وہ کیا دکھاتے ہیں اس ارادہ سے جب وہ ایک اسلامی ریاست کے دارلخلافہ میں پہنچا تو بد قسمتی سے محرم کے ایام تھے اور وہاں کے باشندے طرح طرح کی نقلیں کر رہے تھے بازاروں میں مسلمان چیتے اور تیر بندر اور رہ اور شیر بندر اور ریچھ بنے ہوئے پھر رہے تھے جسے دیکھ کر اسے سخت حیرت ہوئی کہ عملی اسلام کتابی اسلام سے بدرجہ غایت متفائر ہے اور ایسا ابتلاء آیا آب کہ آخر اسلام سد راہ اگر کوئی ہے تو وہ خود مسلمانوں کی عملی حالت ہے ار ہو گیا پس اسلام کے راستہ میں سد راہ سے بیزار ہو ۔ اور اس حالت کو دیکھ کر غیر مذاہب کے لوگوں کو ہی ابتلاء نہیں آتا بلکہ آئندہ نسلیں بھی دین سے بیزار ہوتی چلی جاتی ہیں اور اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اکثر مسلمانوں کے گھرانوں ، یہ حال ہے کہ باپ کو دین سے جس قدر تعلق ہے بیٹے کو اس سے بہت کم تعلق ہے اور فیصدی بہت ہی کم مسلمان نکلیں گے جو اسلام کی صدا جو اسلام کی صداقت کے دل سے قائل ہوں بلکہ اب صرف رسم اور عادت کا ایمان رہ گیا ہے۔