انوارالعلوم (جلد 2) — Page 106
انوار العلوم جلد ۲ ۱۰۶ تحفة الملوك تِلْكَ الْعَقِيدَة۔ مساجد کی آبادی اس وقت تک کوئی چیز نہیں جب تک دل محبت الہی سے معمور نہ ہوں۔ زبان پر خدا تعالی کا ذکر کوئی قدر نہیں رکھتا جب تک دل میں اس کی یاد نہ ہو ۔ اور افسوس کہ قلبی تعلق اب مفقود ہو گیا ہے ان عبادات پر انسان خوش ہو سکتے ہیں لیکن اللہ تعالی خوش نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ ظاہر کو نہیں بلکہ دلوں کو دیکھتا ہے۔ اس کے حضور میں وہ عبادات کچھ حیثیت نہیں رکھتیں جن میں خلوص نہیں اور یہی وجہ ہے کہ باوجود عبادت کے قلب صاف نہیں ہوتے اور وہ تقویٰ اور حفاظت عن الذنوب حاصل نہیں ہوتی جس کاء وتی جس کا عابدین کے لئے وعدہ وعدہ دیا گیا ہے۔ افسوس کہ کوئی وقت تو وہ تھا کہ مسلمان ہونا ہر قسم کے گناہوں سے محفوظ ہونے کی کافی ضمانت تھا اور جو شخص اسلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتا تھا اس پر یقین ہو ہو جاتا جاتا تھا۔ تھا کہ یہ ہر ہر قسم کے غدر اور شرارت سے محفوظ ہے۔ الا ماشاء الله والنادر المعد وم۔ لیکن اب مسلمان ہونے کے یہ معنے ہیں کہ یہ شخص ست ہے اور سخت مسرف ہے کسی قسم کے گناہ سے نہیں بچتا حتی کہ بعض ناپاک لوگوں کی حالت ایسی خراب ہو گئی ہے کہ وہ کھلے بندوں کہتے ہیں کہ ہم مسلمان آدمی ہیں ہمیشہ مقروض ہی رہتے ہیں جو کچھ آجاتا ہے اڑا جاتے ہیں گویا اسلام کی تعلیم یہی ہے کہ انسان مشرف ہو اور ہمیشہ مقروض رہے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ ، میں نے بہت سے ذی حیثیت لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ مسلمان ملازم سے ہندو ملازم کو زیادہ پسند کرتے ہیں کہ وہ زیادہ دیانتدار اور محنتی ہوتا ہے اور اپنے کام کو خوب اچھی طرح سے پورا کرتا ہے اور یہ بات مسلمانوں کے لئے نہایت شرمندہ کن ہے۔ اسلام کے بہت سے دشمن ہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ ہر ایک مذہب اسلام کا دشمن ہے کیونکہ اسلام اپنے اندر صداقت رکھتا ہے اور دوسرے مذاہب اس بات سے خوب واقف ہیں کہ اگر کوئی مذہب اپنی ذاتی خوبصورتی کی وجہ سے لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ سکتا ہے تو وہ اسلام ہی ہے۔ اسی لئے وہ آپس میں ایک دوسرے سے نہیں ڈرتے مگر اسلام سے سب خائف ہیں اسی لئے اسلام کے مقابلہ میں سب اکٹھے ہو جاتے ہیں اور اس کی طرف مخبر صادق نے اشارہ فرمایا ب الْكُفْرُ مِلَةٌ وَاحِدَةً یعنی اسلام کے مقابلہ میں سب مذاہب ایک ہو جاتے ہیں و ہیں ورنہ آپس میں تو اور ان کے بہت سے نقار ہیں اور ان کو چاہئے بھی ایسا ہی۔ ہم چرند جانوروں میں دیکھتے ہیں کہ وہ آپس میں کتنا ہی لڑیں جب کوئی درندہ آجائے تو اس کے مقابلہ میں سب ایک ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ