انوارالعلوم (جلد 2) — Page 105
انوار العلوم جلد ۲ ۱۰۵ تحفة الملوك لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ (البقرہ : ۱۸۸) اسی طرح ہم اپنے احکام لوگوں کے فائدے کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ متقی ہو جائیں۔ لیکن فی زماننا لوگ روزہ رکھتے ہوئے تقوی سے عاری ہیں۔ آنحضرت ا فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کو تمہیں بھوکے رکھنے سے غرض نہیں جو شخص روزہ رکھتا اور جھوٹ بولنا ترک نہیں کرتا۔ اللہ تعالی کو اس کے بھوکا رہنے کی کچھ حاجت نہیں عن ابی هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الرُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِى أَنْ يَدَعَ طَعَامَةَ وَ شَرَابَهُ ( بخارى كتاب الصوم : باب من لم يدع قول الزور و العمل به، پس روزہ رکھتے ہوئے جن لوگوں میں تقوی پیدا نہیں ہو تا معلوم ہوتا ہے ان کے روزے قرآن شریف کے فرمائے ہوئے روزے نہیں کیونکہ روزوں کے فرض کرنے کی غرض ہی تقویٰ کا پیدا کرنا تھا نہ کہ نہ کہ انسان کو بھوکا رکھنا۔ خدا تعالے کو کیا غرض ہے کہ وہ انسان کو وہ انسان کو خواہ مخواہ بھوکا رہنے کا حکم دے۔ حج کی نسبت بھی فرمایا کہ فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الحج (البقرة: ۱۹۸) لیکن آجکل تو جو حج کی بے قدری ہے وہ جناب کو معلوم ہی ہو گی حج میں جنگ و جدل کا چھوڑنا تو الگ رہا۔ ان دنوں کو جنگ و جدل کے لئے مخصوص کر لیا گیا ہے۔ غرض کہ گو بعض لوگ بعض احکام شریعت پر عمل کرتے ہیں لیکن ان کا عمل ایسے طریق سے ہے کہ اس سے وہ فوائد مرتب نہیں ہوتے جو ہونے چاہئیں اور ان کی نمازیں اور ان کے روزے اور ان کی زکوتیں اور اور ان کے حج کے حج بعینہ ویسے ویسے؟ ہی اعمال ہیں جیسا کہ تماشہ کرنے والے کبھی بادشاہ بنکر بن بیٹھ جاتے ہیں اور دربار لگا لیتے ہیں لیکن در حقیقت وہ سائل ہوتے ہیں پس گو ایک وقت کے لئے اپنے آپکو بادشاہ بھی کہتے ہیں ان کے سامنے کچھ لوگ ملازم بنکر کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ ان پر حکومت کرتے ہیں لیکن حقیقت اس کی کچھ بھی نہیں ہوتی نہ وہ بادشاہ ہو جاتے ہیں نہ ان کے دوسرے ساتھی ان کے خادم و غلام بن جاتے اور اس بناوٹ سے ان کو وہ حقوق و اختیارات حاصل نہیں ہو جاتے جو بادشاہوں کو حاصل ہوتے ہیں یہ لوگ بھی بظاہر نمازیوں کی طرح وضوء کرتے ہیں مساجد میں جاتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں لیکن یہ سب کام نمائی ہوتے ہیں ان کی یہ عباد میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں رکھتیں۔ ورنہ نعوذ باللہ کہنا ہو گا کہ وہ محنت تو پوری کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کو ان انعامات سے محروم رکھتا ہے جو نمازیوں اور روزہ داروں اور زکوۃ دینے والوں اور حج کرنے والوں کے لئے اس نے مقرر فرماتے ہیں۔ وَنَعُوذُ بِاللهِ مِنْ