انوارالعلوم (جلد 2) — Page xii
انوار العلوم جلد ۲ حضرت حکیم محمد حسین صاحب قریشی کے ذریعہ پیش کی۔ تعارف کتب آپ نے اس کتاب کے ذریعہ اسلام کی روایتی سادگی مگر حد درجہ احترام کے ساتھ والی رکن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دلنشیں پیغام پہنچایا ۔ اس کتاب میں آپ نے نہایت موثر انداز میں اسلام کی موجودہ حالت غیر مسلموں کی حد درجہ ترقی ، مسلمانوں کی اسلامی تعلیم سے دوری اور آپس میں افتراق و نفاق کو بیان کرنے کے بعد ضرورت امام کے موضوع پر روشنی ڈالی اور انحضرت ﷺ کی خوشخبری إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا کے پورے ہونے اور تجدید دین کے لئے آنے والے امام حضرت مسیح موعود کی بعثت کے متعلق آگاہ کیا اور آپ کے ذریعہ تجدید دین کے ایسے عظیم الشان کاموں جن کا اپنوں نے ہی نہیں غیروں نے بھی اعتراف کیا کی تفصیل بیان فرمائی۔ اور عام طور پر پوچھے جانے والے دو سوالوں کہ حضرت مرزا صاحب مسیح موعود کیونکر ہوئے اور یہ کہ مسیح موعود کی آمد سے قبل خروج دجال ضروری ہے پر مدلل سیر حاصل بحث فرمائی۔ آخر پر آپ نے حضرت مسیح موعود کے زمانہ کی فضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا : یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔ کہ اس نے ہم کو اس مبارک زمانہ میں پیدا کیا۔ ورنہ لاکھوں بزرگ اور علماء اور امراء اس بات کی حسرت کرتے ہوئے مر گئے کہ کسی طرح ان کو مسیح موعود کا زمانہ ملے گو مسیح موعود فوت ہو چکے ہیں۔ مگر ان کے دیکھنے والے موجود ہیں۔ پس یہ زمانہ غنیمت ہے وہ دن آتے ہیں جب کہ زبردست بادشاہ اس خدا کے مرسل کے سلسلہ میں داخل ہوں گے۔ لیکن مبارک ہے جو سب سے پہلے اس نعمت کو حاصل کرتا ہے۔ کیونکہ کوئی زمانہ آئے گا جب کہ اپنی بادشاہتیں دے کر خواہش کریں گے کہ ہمیں بھی وہ فضیلت حاصل ہو جائے جو مسیح موعود کے قریب کے لوگوں کو حاصل تھی"۔ (۶) جماعت احمدیہ جنگ عظیم اول - - وقت ترکی کی سلطنت تمام اسلامی دنیا میں واجب احترام تھی۔ لیکن ترکی کے جنگ عظیم میں بحیثیت جرمنی کے حلیف شامل ہونے پر مسلمانان ہند نے ترکی کے اس اقدام کو