انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xi of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page xi

انوار العلوم جلد ۲ تعارف کتب لوگ شیعہ ہیں۔ خلیفہ کا طریق حکومت کیا ہو ؟ کیا خلیفہ کے بغیر مسلمانوں کی نجات نہ ہو گی؟ کا نہایت دلنشین اور مؤثر انداز میں دلائل سے رد کیا۔ (۴) شکریہ اور اعلان ضروری حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی وفات کے بعد اٹھنے والے فتنہ کا زور خدا تعالیٰ کے فضل سے اوائل اپریل ۱۹۱۴ء میں ٹوٹنا شروع ہو گیا۔ حضرت فضل عمر نے قرآنی حکم لَئِنْ شَكَرْتُمْ لا زِيدَنَّكُمْ کے تحت بعنوان "شکریہ اور اعلان ضروری " ایک مضمون تحریر فرمایا۔ جس میں اس فتنہ کی شدت اور دشمنوں کی خوش فہمیوں کا تذکرہ کر کے خدا تعالیٰ کے غیر معمولی فضل و احسان کو بیان کیا کہ کس طرح اس عزیز و حکیم خدا نے جماعت کے ایک بہت بڑے حصہ کو اس فتنہ کے شر سے محفوظ کر لیا۔ آپ نے تمام جماعت کو خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ اور ضروری اعلان کے تحت خدمت اسلام کے بنیادی فرض تبلیغ کی طرف توجہ دلائی۔ اور اس کام کو احسن طور پر انجام دینے کے لئے بارہ ہزار روپیہ چندہ جمع کرنے کی تحریک فرمائی اور افراد جماعت کو یہ عظیم الشان خوشخبری دی کہ : اس وقت دشمن کہہ رہا ہے کہ اب احمدیت گئی لیکن اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ آگے سے بھی زیادہ اسے ترقی دے اور اسلام کے شیدا خوش ہو جائیں کہ اب خزاں کے بعد بہار آنے والی ہے اور مسیح موعود کے وعدوں کے پورا ہونے کے دن آگئے ہیں"۔ (۵) تحفة المملوک یہ کتاب حضرت خلیفة المسیح الثانی کے منصب خلافت پر متمکن ہونے کے بعد پہلی تصنیف ہے۔ جو آپ نے اپنی ایک رویا کی بناء پر جون ۱۹۱۴ء میں تحریر فرمائی اور بر صغیر کی سب سے بڑی اسلامی ریاست حیدر آباد دکن کے والی مکرم و معظم میر عثمان علی خان صاحب کی خدمت میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب ، حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب ، حضرت حافظ روشن علی صاحب اور