انوارالعلوم (جلد 2) — Page 97
انوار العلوم جلد ۲ ۹۷ تحفة الملوك جو اصل غرض تھی وہ تو مفقود ہو گئی اور ادنی باتوں کی طرف لوگ متوجہ ہو گئے۔ اس وقت مسلمانوں کے لیڈر ان قوم کی ایسی ہی حالت ہے کہ جیسے ایک شخص مر رہا ہو اور اس کے دوست اس کے ناخن کاٹنے اور بال سنوارنے میں مشغول ہوں اور ساتھ ساتھ خوش ہوتے جائیں کہ دیکھو اب چہرہ کیسا خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔ اگر وہ اس کے علاج کی طرف متوجہ نہ ہوں گے تو وہ مر جائے گا زینت تو زندگی کے ساتھ ہے اگر وہ زندہ ہی نہ رہا تو اس زینت سے کیا فائدہ ۔ پس جب اسلام ہی ہاتھ سے جا رہا ہے اور مسلمان روز بروز دین سے بے بہرہ ہو کر طرح طرح کے گندوں میں مبتلاء ہو رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر سے ایمان ان کے دلوں سے اٹھ رہا ہے اور اگر کوئی شخص مسلمان کہلا تا بھی ہے تو صرف رسمی طور پر تو دنیاوی ترقیات کی طرف متوجہ ہونا یا ان پر خوش ہونا فعل عبث ہے اصل غرض تو مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کا پیدا کرنا ہے اگر اس سے مسلمان دور ہو گئے تو ان کی ترقیات ہمارے لئے ہرگز ہرگز خوشی کا باعث نہیں۔ اسلام مسلمانوں کی جان ہے جب وہی نکل گئی تو ان زینتوں کو کیا کرنا ہے یہ تو زندگی کے ساتھ ہیں جب زندگی کا پانی ختم ہو گیا تو یہ سب زینتیں بجائے سکھ کے دکھ کا موجب ہیں مگر افسوس کہ بجائے اسلام کے قیام کے مسلمانوں کی توجہ حکام دنیوی کی طرف لگ رہی ہے اور جو وجاہت حکومتوں کے زوال کی وجہ سے جاچکی ہے اسے تجارت میں ترقی اور علوم جدیدہ کے حصول سے پورا کرنا چاہتے ہیں اگر وہ اصل مقصد کی طرف بھی توجہ رکھتے اور ساتھ ہی دنیادی مقابلہ بھی جاری رہتا تو اس میں کچھ حرج نہ تھا مگر اصل مقصد کو بالکل نظر انداز کر کے دنیا ہی میں غرق ہو جانا اور اصل مرض کا ترقی کرتے جانا خطر ناک علامات سے ہے۔ اسلام سے بے پرواہی کا جو نتیجہ اب تک نکل چکا ہے وہی انسان کی آنکھ کھولنے کے لئے کافی سے زیادہ ہے۔ ہزاروں مسلمان ہیں جو اسلام کو چھوڑ کر دوسرے مذاہب اختیار کر چکے ہیں اور جن کے باپ دادا اپنی تمام عزت و عظمت اسلام پر عمل کرنے میں پاتے تھے اب ان کی اولاد اسلام میں ہزاروں عیب بتاتی ہے اور تو اور خود سادات میں سے بیسیوں خاندان مسیحی ہو چکے ہیں اور وہی قوم جس کی آنحضرت ﷺ کے طفیل تیرہ سو برس تک عزت ہوتی چلی آئی ہے اب اس میں سے ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو اس پاک وجود کو سٹیجوں پر کھڑے ہو کر گالیاں دیتے ہیں اور اسلام سے علی الاعلان بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر نظر غائر سے مسلمانوں کی حالت کا مطالعہ کیا جائے تو کثرت سے ایسے مسلمان ملیں گے جو اسلام سے بے خبر ہی نہیں اس سے متنفر ہو چکے ہیں اور یہ :