انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 96

انوار العلوم جلد ۲ ۹۶ تحفة الملوك ہے اور کسی قسم کی ترقی سے روکتا نہیں بلکہ مسلمانوں کو ہر قسم کے علوم سیکھنے اور ہر رنگ میں ترقی کرنے کی ترغیب دیتا ہے مگر باوجود اس کے ان ترقیات کو اسلام کی ترقی نہیں کہا جا سکتا اور اگر مسلمان ان میدانوں میں اپنے دشمنوں کو شکست بھی دے دیں تب بھی نہیں کہا جا سکتا کہ اسلام کی فتح ہوئی۔ پس اسلام کسی اور ہی چیز کا نام ہے اور وہ اس کے نام سے ہی ظاہر ہے یعنی اللہ تعالی کی کامل فرمانبرداری اور اس کے احکام کی پوری پوری اتباع اور رب العالمین خدا سے انسان کے تعلق کا مضبوط کرنا اور یہی غرض ہے جس کے پورا کرنے کی طرف آنحضرت ا ساری عمر متوجہ رہے آپ کی زندگی کا ایک ایک کام اور آپ کی ایک ایک حرکت اس بات کو ثابت کر رہی ہے کہ آپ آ۔ کے مد نظر صرف یہی بات تھی کہ کسی طرح دنیا پر عظمت الہی کا اظہار ہو اور لوگ ہر قسم کے نفسانی جذبات اور خواہشات کو ترک کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جائیں اور ان کا چلنا پھرنا کھانا پینا سونا جاگنا سب اللہ تعالی کے لئے ہی ہو جائے ۔ ہر قسم کے شکوک و شبہات سے پاک ہو کر عرفان تام ان کو حاصل ہو اور بندوں اور رب میں جو روکیں اور پردے حائل ہیں دور ہو جائیں اور بندے اپنے خالق و رازق کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر لیں اور یہی کام تھا جو آپ ساری عمر کرتے رہے پس اگر مسلمانوں میں ان باتوں کا فقدان ہو اور وہ ان اغراض کو پورا نہ کر سکیں تو ان کی حکومتیں ہوں یا نہ ہوں ، تجارتوں میں ترقی کریں یا تنزل علوم جدیدہ سے واقف ہوں یا نہ ہوں اسلام کو ان کی ترقی یا تنزل سے کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ہے کیونکہ جب ان میں اسلام ہی نہ ہو تو ان کی کسی ترقی پر اسلام کے دلدادگان کو کیا خوشی ہو سکتی ہے اور دنیاوی ترقیات پر جن میں اہل یورپ ان پر فضیلت رکھتے ہیں ہم کیونکر خوش ہو سکتے ہیں اسلام کی اصل غرض جب تک پوری نہ ہو تو اور سب کچھ بیچ ہے اور جب ہم غور سے دیکھتے ہیں تو جو اسلام کی اصل غرض ہے اس سے مسلمان روز بروز دور ہوتے چلے جاتے ہیں بلکہ اکثر تو ایسے ہیں جو اس قدر بھی نہیں جانتے کہ اسلام کی اصل غرض کیا ہے وہ مسلمان کہلاتے ہیں لیکن مسلمان ہونا ان کے لئے ایک قوم سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا وہ خیال کرتے ہیں کہ اسلام ایک بڑی قوم کا نام ہے جس کے اندر اور چھوٹی چھوٹی قومیں ہیں اور مسلمان کہلانے کا اس سے زیادہ مطلب نہیں کہ ہم مسلمانوں کے ہاں پیدا ہوئے ہیں اور جبکہ اصل غرض سے لوگ روز بروز دور ہوتے چلے جاتے ہیں اور لیڈر ان قوم بھی اسلام کی ترقی کو دنیاوی ترقی کے مترادف خیال کرتے ہیں تو اسلام کے بہی خواہوں کو خوش نہیں بلکہ رنجیدہ ہونا چاہئے کہ