انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 89

انوار العلوم جلد ۲ ۸۹ تحفة الملوك لئے تیار نہیں بلکہ ہر ایک مسلمان کا یہ عقیدہ اور مذہب ہے کہ اسلام کی ترقی ایک غیر معمولی ترقی تھی اور ایسے حالات میں تھی کہ جن کے ہوتے ہوئے کبھی کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ اسلام کا ابھارنے والا خدا کا ہاتھ تھا اسے ترقی دینے والی وہ ذات تھی جو زمین و آسمان کی خالق ہے اور واقعات سے اس عقیدہ کی تصدیق ہوتی ہے اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ جو شخص ایسی حالت میں ہو کہ خود اس کے ہم قوم اس کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہوں اور اس کے اصحاب کو قضائے حاجت کے لئے باہر نکلنے کا راستہ نہ ملتا ہو اور غیر تو غیر خود منافق جن کی مسلمانوں کے خوف سے جان نکلتی تھی مسلمانوں پر طعنہ کرنے لگیں کہ تمہارے دعوے کہاں گئے اب تو تم کو قضائے حاجت کے لئے بھی جگہ نہیں ملتی وہ نہایت شد ومد سے دعوی کرے کہ میرے ہاتھوں میں قیصر و کسری کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں اور ان کے محلات اور قصر پر میرے فرمانبرداروں اور غلاموں کا قبضہ ہو جائے گا۔ جس طرح اسلام کی ترقی کو معمولی علل و اسباب کا نتیجہ ظاہر کرنا واقعات سے منہ موڑنا ہے۔ اسی طرح اسلام کے تنزل کو عام تنزل کے اسباب کے ماتحت کرنا بھی ایک ظلم ہے مختلف ممالک اور مختلف اقوام کی حکومتوں کا جو ایک خاص مذہب سے تعلق رکھتی ہوں نہایت قلیل مدت میں تباہ ہو جانا ضرور معنی خیز ہے اور لازمی طور پر ایک چشم بصیرت رکھنے والے کو اس طرف متوجہ کر دیتا ہے کہ اس کا کوئی خاص سبب ہے اور وہ سبب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ جس طرح اسلام نے اللہ تعالی کی تائید اور مدد سے خارق عادت ترقی کی تھی۔ اسی طرح مسلمانوں نے اللہ تعالٰی کو ناراض کر کے خارق عادت تنزل کا منہ دیکھا اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اور جبکہ ہم احادیث نبی کریم ال کی طرف دیکھتے ہیں تو ان میں اس زمانہ کی طرف خاص اشارہ پاتے ہیں اور وہاں سے بھی ہمیں اس تمام تباہی کا ایک ہی باعث معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان خداتعالی کو ناراض کر دیں گے۔ ایک اور امر بھی قابل غور ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے تہور اور شجاعت میں کچھ فرق نہیں آگیا بلکہ صحابہ کے زمانہ کو ایک طرف رکھ کر کہ وہ ایک مستثنیٰ زمانہ تھا اس وقت کے مسلمان لشکروں نے پچھلے اسلامی بہادروں سے کچھ کم جاں فشانی کے کام نہیں دکھائے ۔ اگر موجودہ زمانہ میں مسلمان حکومتوں کو دوسری حکومتوں کے سامنے شکست کھانی پڑتی ہے تو اس کی وجہ مسلمان سپاہیوں کی بزدلی نہیں بلکہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے لشکر نے دشمن سے بڑھ کر مصائب برداشت کر کے ثابت قدمی کو ترک نہیں کیا مگر پھر بھی ایسے ایسے بواعث پیدا ہوتے رہے