انوارالعلوم (جلد 2) — Page 88
انوار العلوم جلد ۲ AA تحفة الملوك انسان کسی ملک کی تباہی پر حیران نہیں ہو سکتا کیونکہ جس طرح انسان مرتے ہیں اسی طرح ملکوں اور قوموں کی ترقیات پر بھی مرور زمانہ کا اثر ہوئے بغیر نہیں رہتا جو قوم آج بر سر حکومت ہوتی ہے وہ کل ذلت اور ماتحتی میں عمر بسر کرتی ہے پس کسی قوم کی تباہی پر حسرت کا ظاہر کرنا نادانی کی علامت ہے لیکن ایک ہی وقت میں دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف قوموں کی حکومت کا آنا فانا تباہ ہوتے چلے جانا اور سب کا ایک ہی مذہب کے پیرو ہونا ضرور خاص معنے رکھتا ہے۔ ایک ملک کی مختلف ریاستیں بھی ایک وقت میں تباہی کی گھاٹ اتر سکتی ہیں کیونکہ مختلف حصص ملک کے حالات اکثر ایک ہی رنگ کے ہوتے ہیں لیکن ایک حکومت الجزائر میں ہے تو ایک مراکش میں ایک طرابلس میں ایک مصر میں ایک ہند میں ایک ایران میں ایک افغانستان میں ایک ترکستان میں ایک فلپائن میں ایک سوڈان میں ایک ابی سینیا میں اور یہ سب کی سب حکومتیں مختلف اوقات میں قائم ہو ئیں اور مختلف اقوام کے زیر اثر انہوں نے ترقی حاصل کی پھر ایک ہی وقت میں ان کا گر جانا اور اسلام کی بجائے حکومت کا غیر مذاہب کے قبضہ میں چلا جانا ثابت کرتا ہے کہ اس تنزل کے اندر کوئی خاص راز ہے اور صرف واقعات روز مرہ کا یہ نتیجہ نہیں ہے نہ انسانی تدابیر اس کا موجب ہو سکتی ہیں ان کا اثر ایک ہی وقت میں مختلف ممالک اور مختلف اقوام کی مختلف الاصول حکومتوں پر پڑنا قرین قیاس نہیں ہے اور اگر کہا جائے کہ نہیں ایسا ممکن ہے اور اس تنزل کا باعث محض دنیاوی اسباب ہیں اور کوئی پوشیدہ طاقت اس کے پیچھے کام نہیں کر رہی تو پھر اس متفقہ امر کا بھی انکار کرنا ہو گا کہ اسلام کو خارق عادت ترقی حاصل ہوئی ہے اور اس کے ابتدائی ایام کی ترقی کوئی امتیازی رنگ اپنے اندر رکھتی ہے کیونکہ یہی دعوی مخالفین اسلام کا ہے کہ اسلام کی ترقی کے ترقی کوئی معجزانہ رنگ اپنے اندر نہیں رکھتی بلکہ ایک عام ترقی ہے اور اس کی کئی وجوہات وہ بیان کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اصل میں عرب ایک مدت تک آزاد رہ کر اس قسم کی استعدادیں پیدا کر چکے تھے کہ اس وقت کی متمدن قوموں پر جو اپنے ذہنی اور جسمانی قوی کو مدت ہائے دراز تک خرچ کرنے کے بعد اب تھک گئی تھیں فتح پالیتے اور یہ کہ آنحضرت ا کا قیصر اور کسری کے ممالک اور خزانوں کے فتح ہونے کی خبر دینا صرف عربوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کے مطالعہ اور ان دونوں سلطنتوں کے قریب آنے والے زوال کے آثار کے معائنہ کا نتیجہ تھاور نہ اس میں کوئی غیر معمولی بات نہ تھی اسلام اگر نہ بھی ہو تا تب بھی وہ حکومتیں تباہ ہو جاتیں اور اگر مذہب کے رنگ میں محمد ( ) صاحب قوم کو نہ رنگین کرتے تو کسی اور لیڈر کے ماتحت عرب ترقی کرتے اور ضرور کرتے ۔ مگر کوئی مسلمان اس بات کو ماننے کے