انوارالعلوم (جلد 2) — Page 85
انوار العلوم جلد ۲ ۸۵ تحف الملوک ابی و امی تن تنہا اس پاک مذہب کی تعلیم سے لوگوں کو آگاہ کرتے تھے نہ کوئی مولوی تھا نہ عالم نہ واعظ نہ کوئی سلطنت اس دین کی حامی تھی نہ کوئی فوج و سپاہ اس دین کو دشمنوں کے حملوں سے بچانے پر مامور تھی۔ بس وہی پاک وجود لاکھوں آفتوں اور کروڑوں مصائب کی موجودگی میں مکہ جیسے مقام میں (جس کے باشندوں کا واحد ذریعہ معاش بتوں کے استھانوں کی خدمت تھا اور جو کل عرب میں بتوں کے پجاری ہونے کی وجہ سے ہی معزز تھے ) شرک کی بیخ کنی کے لئے رات اور دن مشغول تھا چند نیک طبع اور سلیم الفطرت انسان اس کی پاک اور بے عیب تعلیم کو سن کر اس پر ایمان لے آئے تھے لیکن کل شورہ پشت اور خبیث الفطرت انسان اس کے استیصال کے درپے تھے اور جس طرح بھی ہو اس کے دین کو مٹانے کے لئے ہر طرح سے مقابلہ کرنا چاہتے تھے آخر آپ کے پیروؤں کو وطن سے بے وطن ہونا پڑا اور خود آپ کو بھی مدینہ کی طرف ہجرت کرنی پڑی مدینہ آپ کے لئے اور بھی مشکلات کا مقام کا مقام ثابت ہوا اور وہاں آپ کے عزم اور استقلال نے اور بھی نمایاں طور پر اپنا کمال دکھایا ۔ کفار مکہ کی مخالفت بدستور جاری رہی یہودون ہود و نصاری اور منافقین کے تین نئے گروہ بھی آپ کی ایذاء دہی پر استادہ و تیار ہو گئے ۔ آج مسلمان دنیا کے ہر گوشہ پر آباد ہیں اور ہر طبقہ کے انسان اسلام میں داخل ہیں گو پہلی سی شان و شوکت نہیں رہی مگر پھر بھی ایک دو آزاد حکومتیں بھی مسلمان ہونے کا دم بھرتی ہیں لیکن دیکھا جاتا ہے کہ اکثر مسلمانوں کے دل اندر ہی اندر خوف سے بیٹھے جاتے ہیں کہ اب اسلام کا کیا حال ہو گا ہزاروں نہیں لاکھوں مسلمان بشرطیکہ یورپ کی طاقت اور اس کی روزانہ بڑھنے والی کرو کا مطالعہ کر چکے ہوں اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کا مسیحیت کی رو میں نہ بہنا اور اپنی حیثیت کو قائم رکھنا نا ممکن ہے بہت سے احمق یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ ایک سو سال کے اندر اسلام دنیا کے پردہ سے مٹ جائے گا گا اور اور واقعہ میں جس طرح اس زمانہ میں اسلام پر چاروں طرف سے حملے ہو رہے ہیں اور ہر ایک مذہب اسلام کو اپنا شکار خیال کر رہا ہے وہ ظاہر بین انسانوں کو گھبرا دینے کے لئے کافی ہے اور یہی وجہ ہے کہ تعلیم یافتہ گروہ جو زمانہ کی حالت سے واقف ہے اس وقت سخت مایوسی کی حالت میں ہے اور اسلام کی ترقی کے لئے کسی جد وجہد کو بھی مذبوحی حرکات سے زیادہ خیال نہیں کرتا یہ تو موجودہ زمانہ میں اکثر مسلمانوں کا حال ہے جو باوجود کروڑوں مسلمانوں کی موجودگی کے اس حد تک مایوس ہو چکے ہیں مگر اس کے مقابلہ پر آنحضرت اللہ کو دیکھتے ہیں کہ آپ تن تنہاد نیا کا مقابلہ کرتے ہوئے بھی اس یقین سے معمور تھے کہ کل دنیا پر میں غالب آجاؤں گا ۔