انوارالعلوم (جلد 2) — Page 84
انوار العلوم جلد ۲ لله تحفة الملوك ضروری خیال کرتا ہوں۔ میں اس بات کو ظاہر کر دینا بھی اپنی روشناس کرانے کی غرض سے ضروری دیکھتا ہوں کہ میں پنجاب کے ایک معزز خاندان میں سے ایک شخص ہوں اور لوگوں میں مرزا بشیر الدین محمود احمد کے نام سے مشہور ہوں میرے والد مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود و مہدی مسعود اللہ تعالی کی طرف سے دنیا کی ہدایت کے لئے مامور تھے اور جماعت احمدیہ کے امام تھے جس جماعت کے پیرو جناب کی ریاست میں بھی آباد ہیں مجھے اس وقت اللہ تعالی نے محض اپنے فضل سے اس پاک جماعت کا امام بنا کر خلافت ثانیہ کے عہدہ پر مقرر فرمایا ہے چونکہ یہ جماعت عام لوگوں کی طرح نہیں ہے اس لئے آپ کی وفات کے بعد جماعت احمدیہ میں سے سب سے زیادہ نیک اور عالم اور متقی حضرت استازی المکرم مولوی نور الدین صاحب رحمتہ اللہ علیہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ماتحت آپ کے خلیفہ اول قرار پائے ۔ ئے تھے اور آپ کی وفات پر اس عاجز کو خداتعالیٰ نے جماعت کی حفاظت کے کام فاظت کے کام پر مقرر فرمایا ہے اور میں نہیں جانتا کہ میرے بعد یہ منصب اللہ تعالی کسی خاندان میں منتقل فرمائے گا۔ اس روشناسی کے بعد میں یہ یہ عرض عرص کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ مجھے اس مکتوب کے لکھنے کی تحریک ایک رؤیا کی بناء پر ہوتی ہے اور چونکہ رویا کا پورا کرنا بھی مومن کا فرض ہے اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اللہ تعالی نے عالم رویا میں جناب تک ایک امر حق پہنچانے کی جو مجھے تحریک فرمائی ہے عالم بیداری میں اس تحریک کو پورا کر دوں۔ اس مکتوب میں جو جناب کی رفعت شان اور عام مخلوق کی بہتری کے خیال سے چھپوا کر جناب کی خدمت میں ارسال کیا گیا ہے اس خواب کا درج کرنا درست نہیں معلوم ہوتا ہاں اس قدر عرض کرتا ہوں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے جناب کو اس سلسلہ کے متعلق ایک مبسوط تقریر کے ذریعہ واقف کیا ہے اور جو کچھ میں نے جناب کو رویا میں کہا ہے اس کا ایک حصہ جو مجھے یاد رہا مع کچھ زوائد کے اس مکتوب کے ذریعہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں اللہ تعالی اس مکتوب کو با برکت کرے اور آپ کو بہت سے لوگوں کے لئے موجب ہدایت کرے ۔ آمین یا رب العالمین۔ جناب سے یہ امر پوشیدہ نہیں کہ اسلام کی جو نازک حالت ان ایام میں ہے وہ پہلے کسی زمانہ میں نہیں ہوئی اور موجودہ حالت کو جب ابتدائے ایام کی حالت سے مقابلہ کر کے دیکھیں تو بدن پر رعشہ سا طاری ہو جاتا ہے کیونکہ ابتدائے اسلام کے احوال اور آج کل کے احوال میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ اسلام نہایت غربت کی حالت میں تھا آنحضرت اللہ فراہ