انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 107

انوار العلوم جلد 26 107 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت۔ نے نہ تحریک جدید کو واپس کی نہ مسجد بنوائی ۔ بلکہ کم و بیش 3700 روپے بصورت سامان تعمیر وغیرہ اور نیٹل کمپنی کی طرف منتقل کئے اور وہاں سے اپنی ذاتی دکانوں کی تعمیر پر خرچ کر لئے۔ اور نینٹل کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے کمپنی کی دکانوں اور پریس کی عمارت بنانے کے لئے ساڑھے بارہ ہزار روپے تک خرچ کرنے کی میاں عبدالمنان کو منظوری دی۔ انہوں نے کمپنی کی عمارت کے ساتھ ہی اپنی سات عدد د کانات بھی تعمیر کیں اور بورڈ کی اجازت کے بغیر اپنی ذاتی اور کمپنی کی تعمیرات کا نہ صرف حساب اکٹھا رکھا بلکہ 623 روپے کی قلیل رقم کے سوا اپنی دکانوں کا سارا خرچ کمپنی کے فنڈز میں سے کیا جس کے نتیجہ میں ان تعمیرات پر اٹھارہ ہزار روپے کے قریب مجموعی خرچ ہوا جس میں تحریک جدید کی منتقل شدہ رقم بھی شامل ہے۔ اس میں سے ان کی اپنی دکانوں کا خرچ ساڑھے دس ہزار روپے اور باقی قریباً ساڑھے سات ہزار روپے کمپنی کی عمارت کا خرچ ہے۔ اس طرح (اگر وکیل المال صاحب کی رپورٹ صحیح ہے تو میاں عبدالمنان صاحب تحریک جدید اور کمپنی کا دس ہزار روپیہ نا جائز طور پر اپنے تصرف میں لائے جو بعد میں 14 اکتوبر کو ان سے وصول کرلیا گیا۔“ اسی طرح چودھری ظہور احمد صاحب آڈیٹر صدر مکرم چودھری ظہور احمد صاحب با ارامی باد انجمن احمد یہ کی شہادت ہے کہ :۔ آڈیٹر صدرانجمن احمدیہ کی شہادت میں نے صدر انجمن احمد یہ کے آڈیٹر کی حیثیت سے جب جلسہ سالانہ 1953ء کے حسابات کی پڑتال کی تو مجھے معلوم ہوا کہ صدرانجمن احمد یہ کے منظور شدہ قواعد کے ماتحت جو رقم یا تو محکمہ کے سیف (SAFE) میں نقد موجود ہونی چاہئے تھی یا صدرانجمن احمد یہ کے صیغہ امانت میں جلسہ سالانہ کی امانت میں جمع موجود ہونی ضروری تھی