انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 80

انوار العلوم جلد 26 80 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت۔ خاکسار ڈاکٹر محمد منیر امرتسری غرض جو بات مجھے یاد تھی اُس کی تصدیق ڈاکٹر محمد منیر صاحب کی شہادت سے بھی ہو گئی اور مرزا محمد طاہر صاحب ابن مرزا عبدالحق صاحب کی شہادت سے بھی ہو گئی جو کہ زاہد کا بھانجا ہے۔ 1929ء میں مولوی محمد اسماعیل غزنوی نبیرہ 39 حضرت خلیفہ اول اور بھانجا میاں عبدالوہاب و عبدالمنان نے (جس کی خط و کتابت عبدالمنان کے کاغذوں میں جنہیں وہ اور نیٹل کمپنی میں جس کا وہ پریذیڈنٹ بنایا گیا تھا چھوڑ کر چلا گیا تھا مل گئی ہے ) میاں عبدالسلام و عبدالوہاب سے مل کر ایک میٹنگ کی اور اس میں بقول ایک معتبر شاہد کے خلافت ثانیہ کے خلاف جھوٹے الزام لگانے کی سکیم بنائی ۔ مجھے وقت پر یہ خبر مل گئی اور میں نے شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اور درد صاحب مرحوم کو مقر ر کیا کہ وہ مخبر کے ساتھ مل کر خفیہ طور پر ان کی سکیم سنیں ۔ چنانچہ عرفانی صاحب کی شہادت ہے کہ ان لوگوں نے آپس میں باتیں کیں کہ جتنے مالی الزام خلیفہ ثانی پر لگائے گئے ہیں ان میں سے کوئی بھی کارگر ثابت نہیں ہوا اور نہ ان کا کوئی ثبوت ملتا ہے اس لئے اب ان پر اخلاقی الزام لگانے چاہئیں ۔ مخبر کا بیان ہے کہ اخلاقی الزام کی تشریح بھی انہوں نے کی تھی کہ مولوی عبدالسلام صاحب کی ایک بیوی جو حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی لڑکی تھیں اور اپنے والد کی طرف سے کئی دفعہ ما کے خط لے کر میرے پاس آیا کرتی تھیں اُن کو بھیجا جائے جب اُن کے لئے خلیفہ ثانی درواز تیاری کھول دیں تو باقی پارٹی کمرہ میں گھس جائے ۔ اور شور مچادے کہ ہم نے ان کو ایک غیر محرم عورت کے ساتھ دیکھا ہے اور تمام لوگوں کو کمرہ میں اکٹھا کر لیں ۔ ہم اس مخبر کی روایت کی قطعی تصدیق نہیں کر سکتے کیونکہ وہ ایک راوی ہے ہاں صرف شیخ ا ا ا ا ا ا ر یعقوب علی صاحب کی گواہی کی تصدیق کر سکتے ہیں کیونکہ اس کے ایک وہ بھی راوی ہیں اور دوسرا راوی مخبر بھی ہے۔ اس پارٹی کے ممبر جن کی سازش شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے سنی شیخ صاحب کے بیان کے مطابق میاں عبدالسلام صاحب، میاں عبدالوہاب صاحب اور مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی تھے۔