انوارالعلوم (جلد 26) — Page 79
انوار العلوم جلد 26 79 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت ۔۔ نے ایک اشتہار حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی ہجو میں بڑی موٹی موٹی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا جس میں حضور کے اخلاق پر ذاتی حملے کئے ہوئے تھے۔ اُس دن مولوی علی محمد صاحب اجمیری اور میاں عبدالمنان صاحب عمر اور میں (راقم ) اکٹھے جا رہے تھے کہ بازار میں اس قسم کا ایک اشتہار ہمیں بھی ملا۔ میں تو اُسے پڑھ کر دم بخود ہو کر رہ گیا۔ میرے ہاتھ سے یہ اشتہار مولوی علی محمد صاحب اجمیری نے لے لیا اور میاں عبدالمنان صاحب اور مولوی علی محمد صاحب اجمیری نے اس کو اکٹھا دیکھنا شروع کیا لیکن جوں جوں وہ اشتہار کو پڑھتے جاتے تھے وہ ساتھ ساتھ عبارت پڑھتے اور ہنستے جاتے تھے۔ مجھے اُن کا یہ فعل طبعاً بُرا معلوم ہوا کیونکہ اپنے کسی بھی عزیز اور قابل عزت اور احترام بزرگ کے متعلق ایسے گندے الفاظ پڑھ کر کوئی بھی شریف آدمی ہنسنے کی بجائے نفرت اور غصہ کے جذبات کا اظہار کرتا مجھ سے اُن کی یہ حرکت گوارا نہ ہوئی اور میں نے اُن سے یہ اشتہار چھین لیا اور کہا کہ یہ ہنسی کا کونسا موقع ہے۔ اشتہار پڑھ کر ہمارے دل رنجیدہ ہیں اور آپ کو ہنسی آتی ہے۔ جس پر وہ خاموش ہو گئے ۔ ممکن ہے اُن کی ہنسی اس اشتہار کے لکھنے والے کے متعلق حقارت کی ہنسی ہو لیکن جو اثر اُس وقت مجھ پر ہوا وہ یہی تھا کہ میں نے اُنکی ہنسی کو اس قدر برا منایا کہ اُس کا اثر اب تک میری طبیعت پر رہا اور محو نہیں ہوا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا ۔ اب جبکہ موجودہ فتنہ منافقین کا اُٹھا ہے تو میرے اُس تاثر کی تصدیق ہوگئی ہے کہ اُس وقت کی مولوی علی محمد صاحب اجمیری اور میاں عبدالمنان صاحب کی ہنسی ایک نفرت، بدگمانی اور حقارت کا بیج تھا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی ذات کے متعلق جو آج ایک مکروہ اور بد نما درخت کی شکل بن کر جماعت کے سامنے ظاہر ہو گیا ہے۔ اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ