انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 359

انوار العلوم جلد 23 359 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ دُشمنوں سے مقابلہ کرنے کی مہلت دی جائے۔ اگر میں ان ایام میں اسلام کی کوئی عظیم الشان خدمت کر لوں تو خود مسلمانوں کی سمجھ میں آجائے گا کہ میں اسلام کا خادم ہوں، دُشمن نہیں اور اگر میں ایسانہ کر سکوں تو پھر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ میں اسلام کا خیر خواہ نہیں۔ اسی طرح 26 فروری 1899ء کو آپ نے ایک اعلان اپنی جماعت کے نام شائع کیا اور اُس میں لکھا کہ :- کسی کے دل کو ان الفاظ سے دُکھ نہ دیں کہ یہ کافر ہے یا دجال ہے یا کذاب ہے یا منتری ہے۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ ۲۷ میں شیخ محمد حسین اور اُس کے گروہ سے یہ بھی درخواست کی تھی کہ وہ سات سال تک اس طور سے ہم سے صلح کر لیں کہ تکفیر اور تکذیب اور بد زبانی سے منہ بند رکھیں اور انتظار کریں کہ ہمارا انجام کیا ہوتا ہے لیکن اُس وقت کسی نے ہماری یہ درخواست قبول نہ کی اور نہ چاہا کہ کافر اور دجال کہنے سے باز آجائیں۔ یہاں تک کہ عدالت کو اب امن قائم رکھنے کے لئے وہی طریق استعمال کرنا پڑا جس کو ہم صلح کاری کے طور سے چاہتے تھے “۔ 276 سے تھے۔ یہ دوسری کوشش تھی۔ مگر اس کے باوجود غیر احمدی علماء اپنی گفر بازی سے باز نہ آئے۔ اس کے بعد 1910ء میں جماعت احمدیہ میں باہم اختلاف پیدا ہو گیا اور کچھ احمدیوں نے غیر احمدیوں کی مدد حاصل کرنے کے لئے مرزا صاحب کو ایسے رنگ میں پیش کرنا چاہا کہ اُن کا وجود اور عدم وجود برابر ثابت ہوتا تھا۔ تب جماعت احمد یہ کے اُس حصہ نے جو کہ مرزا صاحب کی آمد کو اہم قرار دیتا تھا اُن اصطلاحات کے مطابق جو کہ احمد یوں میں پائی جاتی ہیں اور جن کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے اس مسئلہ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا لیکن اُس وقت اُن کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کسی وقت یہ با ہمی گفت و شنید