انوارالعلوم (جلد 23) — Page 358
358 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اس حوالہ میں حضرت ابوہریرہ کی اُس حدیث کی طرف اشارہ ہے جو روح المعانی انوار العلوم جلد 23 میں مروی ہے۔ 273 پھر لکھا ہے:۔ نجات کے متعلق ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ہر وہ شخص جو صداقت کے سمجھنے سے گریز کرتا ہے اور یہ کوشش کرتا ہے کہ صداقت اُس کے کان میں نہ پڑے تاکہ اُسے ماننی نہ پڑے۔ یا جس پر حجت تمام ہو جائے مگر پھر بھی ایمان نہ لائے خدا تعالیٰ کے نزدیک 66 قابل مواخذہ ہے “۔ 274 ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ موجودہ امام جماعت احمدیہ کے نزدیک مسلمان ایسے کافر نہیں جو ملتِ اسلامیہ سے خارج ہوں اور اُن کے نزدیک نجات کا تعلق محبت الہی پر ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے اندر محبت الہی رکھتا ہے تو اگر اُس کے اندر کچھ غلطیاں بھی ہیں اور بعض قسم کا گھر بھی پایا جاتا ہے تب بھی اللہ تعالیٰ اُس کی نیک نیتی کو دیکھ کر اور اُس کی محبت کے جذبات کو دیکھ کر اُس کی بخشش کے کوئی نہ کوئی سامان کر دے گا۔ جماعت احمدیہ کی طرف سے اس جگہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب کہ احمدی بھی اور لفظ کا فر کا کم سے کم استعمال جماعت کفر کے معنے بھی اور کرتی تھی اور ان الفاظ کو صرف جواباً استعمال کرتی تھی تو پھر کیوں اُن کی طرف سے کوشش نہیں ہوئی کہ ان الفاظ کا استعمال کم کیا جائے یا رو کا جائے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہماری طرف سے ایسی کوشش ہوتی رہی ہے۔ چنانچہ بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی کتاب ”انجام آتھم “ میں اس تحریک کو پیش کیا تھا کہ :- نہ ہمیں غیر احمدی علماء گالیاں دیں نہ ہم اُن کا جواب دیں اور اس طرح سات سال تک خاموشی سے گزار دیں۔ اِس عرصہ میں خدا کے فیصلہ کا انتظار کیا جائے اور ان دنوں میں مجھے اسلام کے کی