انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 273

انوار العلوم جلد 23 273 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ مرزاغلام احمد صاحب قادیانی کی رحلت اس قابل نہیں کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جائے اور مٹانے کے لئے اُسے امتدادِ زمانہ کے حوالہ کر کے صبر کر لیا جائے۔ ایسے لوگ جن سے مذہبی یا عقلی دُنیا میں انقلاب پیدا ہو ہمیشہ دُنیا میں نہیں آتے۔ یہ نازش فرزندانِ تاریخ بہت کم منظر پر آتے ہیں اور جب آتے ہیں تو دنیا میں انقلاب کر کے دکھا جاتے ہیں۔ مرزا صاحب کی اس رحلت نے اُن کے بعض دعاوی اور بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو ان تعلیم یافتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کرا دیا کہ اُن کا ایک بڑا شخص اُن سے جدا ہو گیا اور اس کے ساتھ مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اُس شاندار مدافعت کا جوا اُس کی ذات سے وابستہ تھا، خاتمہ ہو گیا۔ اُن کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جائے ۔۔۔۔۔ مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر اُن سے ظہور میں آیا قبولِ عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اس لٹریچر کی قدر و عظمت آج جب کہ وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے۔ اس لئے کہ وہ وقت ہرگز لوح قلب سے نَسْيًا مَنْسِيًّا نہیں ہو سکتا۔ اسلام مخالفین کی یورشوں میں گھر چکا ہے ۔۔۔۔۔ غرض مرزا صاحب کی یہ خدمت آنے والی نسلوں کو گراں بار احسان رکھے گی کہ انہوں نے قلمی جہاد کرنے والوں کی صف اول میں شامل ہو کر اسلام کی طرف سے فرضِ مدافعت ادا کیا