انوارالعلوم (جلد 23) — Page 272
انوار العلوم جلد 23 272 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ مگر دلوں کو گرما دینے والا، برد باری شان میں انکساری، کیفیت میں اعتدال پیدا کر دیا ہے۔ گفتگو ہمیشہ اس نرمی سے کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ گویا متبسم ہیں ۔۔۔۔۔ مرزا صاحب کی وسیع الاخلا الاخلاقی کا یہ ایک ادنیٰ نمونہ ہے کہ اثناء قیام کے متواتر نوازشوں کے خاتمہ پر بایں الفاظ مجھے مشکور ہونے کا موقع دیا۔ ”ہم آپ کو اس وعدہ پر اجازت دیتے ہیں کہ آپ پھر آئیں اور کم از کم دو ہفتہ قیام کریں“۔ اُس وقت کا تبسم ناک چہرہ اب تک میری آنکھوں میں ہے۔ میں جس شوق کو لے کے گیا تھا ساتھ لایا ہوں اور شاید وہی شوق مجھے دوبارہ لے جائے۔“ 85 (5) پھر یہ امر بھی اس معزز عدالت کی توجہ کے لائق ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی زندگی میں باوجود اس امر کے کہ آپ کے دعاوی کے ساتھ علماء نے اختلاف کیا، آپ کے خلاف کفر کے فتوے لگائے۔ نمازوں اور جنازوں اور رشتوں ناطوں سے علیحدگی ہوئی لیکن جب 26 مئی 1908ء کو آپ نے وفات پائی تو مسلم پریس نے آپ کی تعریف اور آپ کی اسلامی خدمات کی ستائش سے بھر پور مضامین لکھے جس سے یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ احرار اور ان کے ہمنواؤں کا یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ احمد یہ جماعت کے نظریات بالطبع مسلمانوں کے لئے اشتعال انگیز اور جماعت احمدیہ کو مسلمانوں سے الگ ایک جماعت ثابت کرنے والے ہیں۔ ذیل میں ہم چند اقتباسات درج کرتے ہیں: بانی سلسلہ احمدیہ کی وفات (الف) مولانا عبد الله العمادی مدیر اخبار پر مشہور اخبارات کی آراء "وکیل" امر تسر نے اخبار ” وکیل“ میں شائع فرمایا:- وو وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادو۔ وہ شخص جو دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا۔ جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی۔ جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تار اُلجھے ہوئے تھے اور جس کی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیٹریاں تھیں ۔۔۔۔۔ خالی ہاتھ دُنیا سے اُٹھ گیا