انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 238

انوار العلوم جلد 23 238 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اور جبر کی وجہ سے ایک آلہ بے جان قرار نہ پائے۔ اسی طرح فرماتا ہے اَلَمْ نَجْعَلْ لَهُ عَيْنَيْنِ وَ لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ وَ هَدَيْنَهُ النَّجْدَيْنِ - 18 کیا ہم نے انسان کے لئے دو آنکھیں دیکھنے کو نہیں بنائیں ؟ اور زبان اور ہونٹ اپنی شبہات کے اظہار کے لئے نہیں بنائے؟ اور اُس کو نیکی اور بدی دونوں کا راستہ نہیں دکھایا؟ پھر ایک اور جگہ فرماتا ہے فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَ تَقُولُهَا 19 انسان کے اندر بُری باتوں اور نیک باتوں کے سمجھنے کا مادہ رکھا گیا ہے۔ پیدائش عالم کا ایک مقصد خلاصہ کلام یہ کہ قرآن کریم اور اسلام کی رُو سے پیدائش عالم ایک مقصد کے مطابق ہے اور وہ ہے ایک ایسے وجود کو ظاہر کرنا جو صفاتِ الہیہ کا مظہر ہو۔ اور اس کے لئے انسان چنا گیا ہے جس میں بالا رادہ خیر و شر کو اختیار کرنے کی طاقت رکھی گئی ہے اور انسان کے وجود کو ظاہر کرنا پھر ایک مقصد کے مطابق ہے اور اُسے آزاد بنایا گیا ہے کہ وہ اپنی عقل اور فہم سے کام لے کر ان دونوں طریق میں سے کسی ایک کو اختیار کرے۔ پھر اس کے بعد فرماتا ہے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسْهَا 20 جو شخص اپنی فطرتِ صحیحہ کو پاک رکھے گا اور اسے خرابیوں میں مبتلا ہونے سے بچائے گا وہ اپنے مقصد اور مدعا کو پالے گا۔ اور جو شخص اپنی فطرتِ صحیحہ کو خاک اور مٹی میں مسل دے گا وہ اپنی پیدائش کے مقصد اور مدعا میں ناکام رہے گا۔ یعنی صفاتِ الہیہ کا ظہور اُس کے ذریعہ سے نہیں ہو گا اور وہ ایک سڑے ہوئے پھل کی طرح ہو جائے گا جس کا نام تو پھل ہے لیکن وہ کام نہیں آسکتا۔ اس فطرتی راہنمائی کے علاوہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کی راہنمائی کے لئے ہم نے یہ طریق بھی جاری کیا ہے کہ ہم انسانوں میں سے بعض لوگوں کو چن لیتے ہیں اور اُن پر اپنا کلام نازل کرتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ - بَصِيرٌ - 21 اللہ تعالیٰ ملائکہ اور انسانوں میں سے رسو میں سے رسول چن لیتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ دُعاؤں کا سننے والا اور انسانوں کی حالتوں کو دیکھنے والا ہے۔ یعنی