انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 180

انوار العلوم جلد 23 180 تعلق بالله گناہ کی طرف میل رکھتا ہے وہ بھی اچھے دوست کے ساتھ اپنے تعلقات کو نباہ نہیں سکتا۔ اور بُرے دوست سے حقیقی محبت یوں بھی مشکل ہوتی ہے۔ پس خوان اور اشیم سے بھی خدا تعالیٰ محبت نہیں رکھتایا یوں کہہ لو کہ خوان اور اثیم بھی خدا تعالیٰ سے محبت نہیں کر سکتے۔ (6) جو فرح ہو یعنی عارضی لذات پر کمال لذت محسوس کرتا ہو اُس سے بھی اللہ تعالیٰ محبت نہیں کرتا۔ فرماتا ہے اِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ 17 جو شخص چھوٹی چھوٹی چیزوں پر خوش ہو جائے اللہ تعالیٰ اُسے اپنی محبت کا مورد نہیں بنا سکتا۔ جو شخص کہتا ہے کہ میں نے خدا کی عبادت کی تھی میں تھانیدار بن گیا۔ میں نے فلاں تجارت کی اور اُس میں بڑا نفع ہوا اور اس خوشی میں اکڑا پھر تا ہے اور پتلون کے شکن ہر وقت درست کرتا رہتا ہے اُس نے خدا تعالیٰ کی محبت کیا حاصل کرنی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ چھوٹی چھوٹی کامیابیاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ ہوتی ہیں اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ ہمیں ہر خوشی اور ہر نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنے کی تعلیم دی گئی ہے لیکن انسان اتنا پست ہمت کیوں بنے کہ وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں پر قانع ہو جائے اور بڑی کامیابیوں کا خیال اُس کے دل سے اُتر جائے۔ اُسے تو آسمان کے تارے توڑنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اپنے عزم کو اتنا بلند رکھنا چاہیے کہ ہر مطمح نظر اُسے نیچادکھائی دے اور وہ سمجھے کہ ابھی میں نے اور اونچا اڑنا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب براہین احمد یہ لکھی اور مولوی برہان الدین صاحب کو پہنچی تو انہوں نے آپ سے ملنے کا ارادہ کیا۔ چنانچہ وہ جہلم سے قادیان آئے۔ اتفاقاً اُن دنوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کہیں باہر تشریف لے گئے تھے شاید ہوشیار پور چلہ کرنے کے لئے یا کسی اور جگہ ۔ مولوی برہان الدین صاحب چونکہ اسی ارادہ سے آئے تھے کہ آپ سے ملیں گے اس لئے وہ اُسی جگہ جا پہنچے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا قیام تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے منع کیا ہو ا تھا کہ کوئی شخص مجھ سے ملنے کیلئے نہ آئے۔ وہ شیخ حامد علی صاحب کے پاس پہنچے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے خادم تھے اور سفروں میں آپ کے ساتھ رہتے تھے۔ مولوی صاحب بعد میں خود ہی سنایا کرتے تھے کہ میں نے شیخ حامد علی صاحب کی