انوارالعلوم (جلد 23) — Page 179
انوار العلوم جلد 23 179 تعلق بالله تھوڑی سی ہوا خارج ہو تو کیا پھر بھی وضو ٹوٹ جائے گا ؟ مولوی صاحب نے کہا تھوڑی کیا اور بہت کیا، ہوا خارج ہو جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اُس نے کہا مولوی صاح با مولوی صاحب آپ پھر بھی نہیں سمجھے اگر بہت ہی تھوڑی سی ہوا خارج ہو تو کیا پھر بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ مولوی صاحب نے کہا ایک دفعہ تو کہا ہے کہ وضو ٹوٹ جاتا ہے اور کیا کہوں۔ اِس پر اُس نے ہاتھ سے اشارہ کر کے کہا کہ اگر اتنی سی ہوا خارج ہو تو کیا پھر بھی وضو ٹوٹ جائے گا؟ مولوی صاحب کو غصہ آگیا اور اُنہوں نے کہا کمبخت! تیرا تو پاخانہ بھی نکل جائے تو وضو نہیں ٹوٹ سکتا۔ تو خوان اور اشیم نے محبت کیا کرنی ہے وہ تو زیادہ سے زیادہ ایک فلسفی کہلا سکتا ہے اور کچھ نہیں۔ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں انسان دلیلیں نہیں سوچتا بلکہ عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ تقریر فرمارہے تھے کہ آپؐ نے دیکھا کہ کناروں پر کچھ لوگ کھڑے ہیں آپؐ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ بیٹھ جاؤ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود اُس وقت مسجد کی طرف آرہے تھے ابھی آپ گلی میں ہی تھے کہ آپ کے کانوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ آواز پہنچی کہ بیٹھ جاؤ۔ آپ و ہیں گلی میں بیٹھ گئے اور بچوں کی طرح گھسٹ گھسٹ کر مسجد کی طرف بڑھنے لگے۔ کسی شخص نے آپ کو دیکھا تو کہا عبد اللہ بن مسعودؓ ! تم ایسے عقلمند ہو کر یہ کیا حرکت کر رہے ہو کہ گلی میں بچوں کی طرح گھسٹ رہے ہو۔ اُنہوں نے کہا بات یہ ہے کہ مجھے ابھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ آواز آئی تھی کہ بیٹھ جاؤ اس لئے میں بیٹھ گیا۔ اُس نے کہا آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم تو اُن لوگوں کے لئے تھا جو تقریر کے وقت کھڑے تھے۔ اُنہوں نے کہا مطلب تو میں بھی سمجھتا ہوں لیکن ڈرتا ہوں کہ ابھی میری جان نکل جائے تو میں خدا تعالیٰ کے حضور شرمندہ ہوں گا کہ ایک حکم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا بھی تھا جس پر میں نے عمل نہیں کیا۔ 176 پس جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں نے حکم تو سنا ہے لیکن اس کا یہ مفہوم ہے وہ مفہوم ہے وہ فلسفی تو کہلا سکتا ہے لیکن محب نہیں۔ اسی طرح اشیم جو کھلے بندوں قانون شکنی کرتا ہے اور جو