انوارالعلوم (جلد 22) — Page 465
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۶۵ چشمہ ہدایت ہی نتیجہ ہے کہ نوح اور لوط اور داؤد اور موسیٰ اور عیسی وغیرہ کو ہم نبی تسلیم کرتے ہیں ورنہ اُن کی اپنی کتابوں کے واقعات اُن کی نبوت کے خلاف ہیں ۔ مگر جن معنوں میں غیر احمدی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین قرار دیتے ہیں اُن معنوں میں تو قیامت کے دن تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا ثابت ہی نہیں ہو سکتا کیونکہ کسی کو کیا اللہ کا ہونا ہوسکتا پتہ کہ کہ کل کوئی نبی آجائے ۔ ۔ یہ یہ تو محض ایک خیال ہے ہے کہ کہ کوئی نبی نہیں آسکتا ۔ کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ تمہیں کیا پتہ کہ کوئی آئے گا یا نہیں ممکن ہے کہ کل ہی کوئی نبی آ جائے اور رسول کریم کے معنے ہونا اللہ علیہ وسلم خاتم النبین نہ رہیں ۔ پس یہ معنے ایسے نہیں جن کو دنیا پر ثابت سکے۔ ان معنوں کے لحاظ سے تو جب کوئی شخص مرنے لگے اُس وقت بھی وہ یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں کیونکہ وہ کہہ سکتا ہے کہ ممکن ہے میرے مرنے کے بعد ہی کوئی نبی دنیا میں آ جائے ۔ غرض جب تک صوراسرافیل نہ پھونکا جائے یہ معنے دنیا پر ثابت نہیں کئے جا سکتے کیونکہ قیامت کے دن تک ہر شخص کو یہ شبہ ہے کہ ممکن ہے کوئی نبی آ جائے اور یہ معنے غلط ہو جائیں ۔ پس غیر احمدی جو خاتم النبیین معنے کرتے ہیں ان کے رو سے قیامت کے آنے سے پہلے آپ کا خاتم النبیین ثابت نہیں ہو سکتا لیکن ہمارے معنوں کے رو سے محمد رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم اُس دن بھی خاتم النبیین تھے جس دن آپ نے دعوی فر مایا کیونکہ اُس دن بھی بائیبل موسی اور عیسی اور داؤد اور دوسرے نبیوں کے وہی حالات پیش کرتی تھی جو آج پیش کرتی ہے لیکن جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان نبیوں پر مہر لگ گئی ، جب آپ نے ان کی نبوت کی تصدیق فرمادی تو ہم ان واقعات کو بھی پڑھتے ہیں مگر ہم پورے یقین اور وثوق کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ سب باتیں غلط ہیں ۔ یہ لوگ یقیناً نبی تھے، یقیناً راست باز اور مقدس انسان تھے ۔ اب دیکھو دیکھو کتنا زمین و آسمان کا فرق ہے جو ہمارے معنوں میں اور انکے معنوں میں پایا جاتا ہے۔ ایک معنوں کے رُو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت اُسی دن ثابت تھی جس دن آپ نے خاتم النبیین ہونے کا دعوی فرمایا ، اور ایک معنوں کے رُو سے