انوارالعلوم (جلد 22) — Page 464
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۶۴ چشمہ ہدایت کہ داؤ د لشکر کے آگے ناچتے گو دتے چلے آ رہے ہیں تو اسے اتنی شرم آئی کہ اُن کے گھر میں داخل ہوتے ہی اُس نے کہا کہ آج آپ نے بڑی قابل شرم حرکت کی ہے ۔ لیکن نے نے ادھر ہم قرآن والا داؤ د دیکھتے ہیں تو چونکہ اس کی نبوت پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر لگ گئی اس لئے داؤد کا ناچنا اور تھر کنا اور گودنا اور ان کا ننگا ہونا سب ہماری نگاہ سے مُہر لگ گئی اس لئے داؤد کا نا چنا اور پھر کیا اورگو داؤ کا اور غائب ہو جاتا ہے اور ہم کہتے ہیں تم جھوٹ کہتے ہو دا ؤ دخدا کا نبی تھا۔ اسی طرح نوح اور لوط کے واقعات پڑھ کر دیکھولو ، بائیل بتاتی ہے کہ وہ شراب پی کر ننگے ہوئے اور اُنہوں نے اپنی بیٹیوں سے زنا کیا ۔ اگر قرآن کی تصدیق ہمیں نظر نہ آتی ، اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر ان نبیوں کی نبوت پر نہ لگتی تو ہم کہتے یہ سب جھوٹے انسان تھے لیکن اب ہم نہیں کہہ سکتے ۔ اب ہم کہتے ہیں کہ یہ لوگ خدا کے مقدس اور راستباز انسان تھے اور جو کچھ کہنے والے ان کے متعلق کہتے ہیں وہ سب غلط اور بیہودہ باتیں ہیں ۔ اسی طرح حضرت کرشن اور رام چندر کو لے لو ۔ قرآن نے یہ اصول بتایا کہ دان مین أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذیر اس اصول کے مطابق ہم سمجھتے ہیں کہ ہندوستان میں بھی نبی آئے اور کرشن اور رام چندر دونوں نبی تھے ۔ مگر اُن کے حالات جو ہندو تاریخ بتاتی ہے وہ اتنے گھناؤنے ہیں کہ کوئی سلیم الفطرت انسان ان واقعات کی بناء پر ان لوگوں کے تقدس کا قائل نہیں رہ سکتا ۔ سیتا کے ساتھ جو ظلم کیا گیا اور اسے سالہا سال تک جس طرح جنگل میں نکال دیا گیا وہ ایسے واقعات ہیں جو طبیعت پر سخت گراں گزرتے ہیں۔ لیکن جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممبر ان پر لگ جاتی ہے تو سارے واقعات ایک ایک کر کے ہماری نگاہ میں بے حقیقت ہو جاتے ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ یہ سب مخالفین کی افتراء پردازیوں کا نتیجہ ہے ورنہ وہ لوگ نبی تھے ، خدا تعالیٰ کے راستباز اور مقدس انسان تھے۔ اب دیکھو یہ معنے جو خاتم النبیین کے ہم کرتے ہیں یہ ایسے ہیں جن کی بناء پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی یہ ثابت کیا جا سکتا تھا کہ آپ خاتم النبین ہیں ۔ آپ کی زندگی میں بھی مسلمان کہہ سکتے تھے کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا