انوارالعلوم (جلد 22) — Page 448
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۴۸ چشمہ ہدایت ایمان کا لفظ کہنے میں اور ان کے ایمان کے کہنے میں ، وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ ہمیں ایمان حاصل ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کوئی ایسی چیز بھی ہو جس کو ہم دیکھ سکیں تو ہم اس سے ایمان کی حقیقت پہچانیں گے ۔ اگلے جہان کی جو جنت ہے وہ عقل سے پہچانی نہیں جاسکتی ن کی حقیقت پہچا میں کے گے۔ وہ سے سے اور نہ رؤیت میں آتی ہے صرف عقیدہ پر اس کی بنیاد ہے ۔ قرآن کہتا ہے تو ہم مانتے ہیں، آئی۔ انجیل کہتی ہے تو عیسائی مانتے ہیں ، وید اور اپنیشد کہتے ہیں تو ہند و مانتے ہیں، بدھ مذہب کی کتابیں کہتی ہیں تو بدھ مانتے ہیں ، زرتشتی کتا بیں کہتی ہیں تو وہ مانتے ہیں ۔ نہ کسی نے دیکھا نہ کوئی عقلی دلیل ایسی ہے جس کے ذریعہ اس کے وجود کو سامنے لاسکیں ۔ اب اگر کوئی ایسی دلیل ہم کو مل جائے جسے دوسرے کے سامنے ہم ثابت کر سکیں اور کہہ سکیں کہ لو یہ معیار ہے اور اسے ماننا پڑے کہ یہ ٹھیک ہے تو پھر بے شک ہم کہیں گے کہ چونکہ ایمان کے پہچاننے کی دلیل صرف ہمارے پاس ہے تمہارے پاس نہیں اِس لئے ایمان صرف ہمارے پاس ہی ہے ۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایمان کی کیا تعریف کی ہے اس طرح آہستہ آہستہ اس کے معنے ہم پر کھلتے جائیں گے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایمان کا چھوٹے سے چھوٹا مزہ جو انسان کو حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ من كَانَ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ اَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ أَنْ أَنْقَذَهُ الله کے یعنی ایمان لانے کے بعد اگر اُس کو آگ میں ڈال کر جلا دیا جائے تو وہ اس کو نہایت ہی پسند کرے گا بہ نسبت اس کے کہ وہ اپنے اس عقیدہ کو چھوڑ دے اور گھر کی طرف لوٹ جائے بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اُس کو کفر سے بچا لیا ہے ۔ ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ پُرانے زمانہ کی اُمتوں میں سے جن کو ایمان نصیب ہوتا تھا لوگ اُن کے سروں پر آرے رکھ کر انہیں چیر دیتے تھے اور وہ کٹ کر دوٹکڑے ہو جاتے تھے لیکن اپنی بات پر قائم رہتے تھے کے صحابہ میں اس کی نظیریں بڑی کثرت سے پائی جاتی ہیں ۔ حضرت بلال کو بھو کا رکھا جاتا تھا ، چوبیس گھنٹے ان کی خوراک کو بند رکھتے ۔ ، اس کے بعد ان کو تپتی ہوئی ریت پر لٹاتے ، بڑا سا گرم پتھر ان کے سینہ پر رکھتے اور پھر ایک