انوارالعلوم (جلد 22) — Page 447
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۴۷ چشمہ ہدایت ہیں کہ ایمان ۔ ایمان ۔ یا ایمان کا کیا ہے ۔ اللہ کا فضل ہے الحمد للہ ہمیں ایمان نصیب ہے لیکن ہم کبھی یہ نہیں سمجھتے کہ ایمان ہوتا کیا ہے۔ آیا ایمان صرف پانچ حرفوں کے جمع ہونے کا نام ہے؟ آخر ہر چیز کی کوئی حقیقت ہوتی ہے، خربوزہ کی کوئی حقیقت ہے ، آم کا ہر ۔ کی کوئی حقیقت ہوتی ہے ، ہم کپڑے کا لفظ بولتے ہیں تو اس کی بھی کوئی حقیقت ہوتی ہے ۔ لتے ہیں تو اس کی بھی کوئی حقیقت ہوتی ہے، کپڑا کھڈ ربھی ہے، کپڑا کمخواب بھی ہے، کپڑا زربفت بھی ہے۔ پس ہمیں سوچنا چاہیئے کہ آخر یہ جو لفظ ایمان ہے اس کا کیا مفہوم ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ جب ہمارے دماغ میں کوئی عقیدہ راسخ ہو گیا اور ہم نے سمجھ لیا کہ فلاں چیز سچی ہے اور ہم نے منہ سے کہہ دیا کہ یہ چیز سچی ہے تو گویا ہم کو ایمان نصیب ہو گیا حالانکہ اسلام یہ معنے نہیں کرتا ۔ ایمان کا لفظ امن سے نکلا ہے اور امن تو آپ لوگ جانتے ہی ہیں روزانہ بحث ہوتی ہے کہ دُنیا میں امن ہونا چاہئے ، امن ہونا چاہئے گو ساتھ ہی یہ بحث بھی ہوتی ہے کہ جہاں احمدی جلسہ ہو اُس میں سر پھٹول ہونی چاہئے اور ان کے جلسہ کو برخاست کر دینا چاہئے ۔ بہر حال ایمان کے معنے ہیں امن دینا۔ سو اب ایمان کے معنے خالی عقیدہ کے مان لینے کے نہ ہوئے ایمان تو اُس چیز کو کہیں گے کہ کسی عقیدہ کو ایسا مان لینا جو امن دے دے۔ اگر اس کے ساتھ اسے امن مل گیا ہے تو وہ ایمان ہے اور اگر امن نہیں تو نام ہے ایمان نہیں ۔ اب ایک امن تو وہ ہے جو ہمارے دیکھنے میں نہیں آتا مثلاً لوگ کہتے ہیں الْحَمْدُ يثه هم دوزخ سے بچ جائیں گے اور جنت میں چلے جائیں گے ۔ سو دوزخ کو کس نے دیکھا اور جنت کو کس نے دیکھا ۔ ہندو بھی یہی کہتا ہے کہ میں دوزخ سے بچ گیا اور جنت میں چلا گیا ۔ گتا ، سور ، بلی بن گئے تو دوزخ ہوگئی ، آدمی بن گئے تو جنت ہو گئی ۔ پس وہ بھی یہی کہتا ہے ، بدھ بھی یہی کہتا ہے کہ بُرے اعمال ہوں گے تو جو نیں بھگتوں گا ۔ بُرے اعمال نہ ہوئے تو نہیں بھگتوں گا ۔ عیسائی بھی یہی کہتا ہے کہ جس کے بُرے اعمال ہوں گے وہ ہمیشہ ہمیش کی دوزخ میں جائے گا اور آگ اور پتھر اور گندھک اور کیا کیا بلاؤں میں وہ جلایا جائے گا گا اور اور اگر عیسائیت پر پر پکا پکا ہوا ایمان ہوا اور مسیح پر پختہ ایمان ہوا تو اگلے جہان میں نہایت ہی خوشحال قلب کے ساتھ رہے گا تو کیا فرق ہے ہمارے