انوارالعلوم (جلد 22) — Page 293
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۹۳ اپنے اندر سچائی ، محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو کہ جس کے ہاں چوری کی ہے اُس کی رشتہ داریاں مشرق میں ہیں تو وہ مسروقہ مال مغرب کی طرف بھیج دے گا اور اگر رشتہ داریاں مغرب میں ہیں تو وہ اسے مشرق کی طرف بھیج دیتا ہے ۔ اسی طرح اگر اس کی رشتہ داریاں شمال کی طرف ہیں تو وہ مال جنوب کی طرف بھیج دے گا اور اگر رشتہ داریاں جنوب کی طرف ہیں تو وہ مال شمال کی طرف بھیج دے گا مثلاً بیکا نیر گورداسپور سے کتنی دور تھا لیکن ہمارے علاقہ کا مسروقہ مال بیکا نیر تک جاتا تھا۔ پھر چوروں میں اس قسم کا نظام ہوتا ہے کہ مثلاً ایک شخص اگر کوئی جانور چوری کرتا ہے تو وہ حالات کے مطابق اُسے ) مطابق اُسے دس بارہ میل پر کسی مقررہ اڈے پر ررہ اڈے پر پہنچا دے گا اور اُسے مثلاً دسواں حصہ قیمت کامل جائے گا ۔ پھر دوسرا آدمی اُسے دوسرے اڈے تک پہنچادے گا اور اُسے دسواں حصہ قیمت کا مل جائے گا ۔ اس طرح وہ ایک عام اندازہ لگا کر قیمت کے حصے کرتے جائیں گے اور آخری وقت اُسے بیچ کر اپنا حصہ پورا کرے گا ۔ ایک دفعہ سکھوں نے میری کچھ گھوڑیاں چرا لیں اور پولیس نے میرے خیال میں انہیں تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن چونکہ پولیس والے ایسے معاملات میں مجرموں سے کچھ لے کر کھا پی بھی لیتے ہیں اس لئے وہ سفارش لے آئے کہ اُنہیں معاف کر دیں اور اپنی رپورٹ واپس لے لیں یہ لوگ گھوڑیاں واپس دے دیں گے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر انہوں نے معاف کر دیا اور پولیس سے اپنی رپورٹ واپس لے لی تو بعد میں گھوڑیاں غائب کر دی جائیں گی ۔ میں نے کہا میں ایسا نہیں کروں گا۔ ہمارے وہ دوست میرے پاس پہنچے اور اُنہوں نے کہا میں نے سنا ہے کہ سکھوں نے آپ کی گھوڑیاں چھرالی ہیں ۔ یہ لوگ سیدھی طرح تو گھوڑیاں واپس نہیں کریں گے آپ اجازت دیں کہ میں ان کی گھوڑیاں چوری کروا دوں اس طرح وہ آپ کی گھوڑیاں واپس کر دیں گے۔ میں نے کہا آپ نے تو بہ کی ہوئی ہے آپ اپنی توبہ پر قائم رہیں گھوڑیوں کی خیر ہے ۔ اتفاقاً وہی چور جنہوں نے میری گھوڑیاں چرائی تھیں ایک اور مقدمہ میں گورداسپور عدالت میں پیش ہوئے ۔ مسٹر اوگلی ڈی سی کی عدالت میں وہ چور پیش ہوئے ۔ وہ احمدیوں کے اخلاق کے