انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 292

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۹۲ اپنے اندر سچائی ، محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو ہیں وہاں جب ذاتیات کا سوال آتا ہے تو وہ جھوٹ نہیں بولتے ۔ امریکہ کا کیریکٹر زیادہ اچھا ثابت نہیں ہوا ۔ امریکہ کا کیریکٹر کمزور ہے۔ کیونکہ اُنہوں نے جلد ترقی کی ہے اس لئے وہ اپنا کیریکٹر نہیں بنا سکا لیکن یورپ نے آہستہ آہستہ ترقی کی ہے اور اس نے اپنا کیریکٹر بنالیا ہے ۔ اسی طرح کسی زمانہ میں ایک مسلمان کا کیریکٹر ایسا تھا کہ وہ جو بات کہتا تھا ٹھیک ہوتی تھی اور جب تک ہماری جماعت بڑھی نہیں تھی اُس وقت تک اس کا بھی یہی حال تھا ۔ احمدی کوئی بات کہہ دے لوگ اسے صحیح تسلیم کر لیتے تھے اور کہتے تھے احمدی جھوٹ نہیں بولتے تھے ۔ جھنگ کا ہی ایک واقعہ ہے یہاں ایک دوست احمدی ہوئے تھے جن کا نام مغلہ تھا۔ ان کے تمام رشتہ دار ان کے سخت مخالف ہو گئے ۔ اس علاقہ کے لوگ چوری کو ایک فن سمجھتے ہیں اور پھر اس پر فخر کرتے ہیں۔ چنانچہ جتنا بڑا کوئی چور ہوگا اُتنا ہی وہ چوروں میں معزز ہوگا ۔ مثلاً کہا جائے گا فلاں آدمی بڑا معزز ہے اس لئے کہ فلاں موقع پر اس نے اتنی بھینسیں نکال لیں یا فلاں آدمی بہت معزز ہے اس لئے کہ اُس نے اتنی گائیں نکال لیں اور پھر چوروں میں اس حد تک نظام قائم ہوتا ہے کہ ہر علاقہ میں جو چند ضلعوں یا تحصیلوں پہ ہوتا ہے ، علان ، علاقہ کے سب چور اُس کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں اور مال مسروقہ میں سے اُس کا حصہ نکالتے ہیں ۔ مغلہ ایسے ہی بالا دستوں میں سے ایک تھے جو بعد میں احمدی ہو گئے اور چوری سے اُنہوں نے توبہ کر لی۔ اُنہوں نے بتایا کہ علاقہ کے چور مال مسروقہ کا پانچواں دسواں یا بارہواں حصہ میرے گھر پر لاتے تھے اور وہ سُنایا کرتے تھے کہ چوروں کے اندر ایسا نظام موجود ہے کہ بعض چوری کی ہوئی چیزوں کو دو دو تین تین سو میل تک پہنچا دیا جاتا ہے ۔ ہر ایک جگہ کا اڈہ مقرر ہوتا ہے اور پہلے سے ہی یہ طے ہوتا ہے کہ اگر کوئی مسروقہ چیز مشرق کے کسی علاقہ کی طرف نکالنی ہے تو اتنے میل پر فلاں آدمی کو دے آؤ اور اگر مغرب کو مال نکالنا ہے تو چھ سات میل پر ایک دوسرے آدمی کو دے آؤ۔ اسی طرح شمال اور جنوب میں ایک ایک آدمی مقرر ہوتا ہے ۔ چور مخصوص حالات کے مطابق یہ فیصلہ کرتا ہے کہ مال فلاں طرف نکالا جائے ۔ مثلاً اگر وہ دیکھتا ہے