انوارالعلوم (جلد 22) — Page 275
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۷۵ سیر روحانی (۵) اور لوگوں کی گزشتہ خدمات پر پانی پھر جاتا ہے ۔ انگریزوں نے اپنی حکومت کے دوران میں لوگوں کو مر بعے دیئے تھے مگر اب ایجیٹیشن AGITATION ) شروع ہے کہ بڑی بڑی زمینیں اور جاگیریں واپس لے لینی چاہئیں ۔ اُس وقت لوگ سمجھتے تھے کہ شاید قیامت تک یہ سلسلہ اسی طرح قائم رہے گا مگر حکومت بدلی تو ساتھ ہی اس کے فیصلے بھی بدل گئے وہاں جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنْ ٣٦ کا قانون ہے کہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے کہہ دیا سو کہہ دیا وہ قیامت تک بدل نہیں سکتا ۔ پھر وہ حکیم ہے اور اُس کے ہر حکم میں کوئی نہ کوئی حکمت کام کر رہی ہے کوئی امر چٹی کا موجب نہیں جیسا کہ دُنیوی حکومتوں میں ہوتا ہے ۔ پھر فرماتا ہے وَاتَّقُوا الله آسمانی علوم تقویٰ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ وَ يُعَلِّمُكُمُ اللهُ ، وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيم ے دنیا میں تو کہا جاتا ہے کہ نوکری ملنے کے لئے بی ۔اے ہونا ضروری ہے یا بی۔ایس سی ہونا ضروری ہے یا ایم ۔ اے ہو تب ہم اسے ملازم رکھ سکتے ہیں، یا ایم ۔ ایس سی کی ڈگری ضروری ہے مگر یہاں یہ بات نہیں، فرماتا ہے تم تقویٰ اختیار کرو ہم اُسی وقت تمہیں اپنے پاس سے علوم سکھانے شروع کر دیں گے۔ دنیا کے ملازموں کو تو علم سیکھ کر نوکری ملتی ہے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کرنا پہلے ضروری ہے اور اس کے بعد ملازمت ملتی ہے وہ بھی اپنے اندر محدودترقی رکھتی ہے مگر یہ الہی گورنمنٹ ساتھ ہی ساتھ ہر ترقی پر مزید علم بخشتی ہے اور جب بھی کوئی شخص تقوی میں آگے قدم بڑھاتا ہے اللہ تعالیٰ کے انعامات بھی اُس پر پہلے سے زیادہ زور کے ساتھ نازل ہونے شروع ہو جاتے ہیں گویا اس علم کے لئے پی ۔ ایس سی ہونا ضروری نہیں صرف تقویٰ میں ترقی کرنا ضروری ہے ۔ بچوں بچوں کوئی شخص تقوی میں ترقی کرتا جاتا ہے اُس کا علم جاتا ہے اور اُسے پہلے سے زیادہ ڈگریاں ملنی شروع ہو جاتی ہیں ۔ بڑھتا چلا b عالم روحانی میں سب سے بڑی ڈگری چنانچہ دیکھ لو اس عالم روجانی میں سب سے بڑی ڈگری اس شخص کو ملی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی جس کے متعلق خود خدا تعالی