انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 546

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۴۶ علمائے جماعت اور طلبائے دینیات سے خطاب وہ قومیں جن کو جلد ترقی اور پھر حکومت مل جاتی ہے وہ پھر بھی حکومت کے سہارے ان مشکلات کا ایک حد تک مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن ہماری ترقی بتدریج اور آہستگی کے ساتھ مقدر ہے پس جب ہماری فتح نے دیر سے آنا ہے اور آہستہ آہستہ آنا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کی درستی کریں اور انہیں پہلوں سے زیادہ ہوشیار اور پہلوں سے زیادہ کارآمد وجود بنائیں ۔ جب فتح جلدی آجائے تو انسان خیال کر سکتا ہے کہ اگلی نسل کی حکومت کے ماتحت خود بخود نگرانی ہوتی رہے گی لیکن جب فتح آہستہ آہستہ آنے والی ہوا اور انسان جانتا ہو کہ میں مر گیا تو میری آئندہ نسل بھی اسی طرح مخالفین کے نرغہ میں گھری ہوگی جس طرح میں گھرا ہوا ہوں تو اُس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ آئندہ نسل کی درستی کا خاص طور پر فکر کرے اور چونکہ ہمارے سامنے یہی خطرہ ہے اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کے معیار اخلاق اور ان کے معیا ر دین اور ان کے معیار تقوی کو زیادہ سے زیادہ بلند ترین اور ان کے اندر پہلوں سے زیادہ احساس قربانی پیدا کریں تا کہ اسلام دشمن پر غالب آئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اس دنیا میں ہمیشہ کیلئے قائم ہو جائے ۔ اس وقت ہمارے مشن قریباً ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور یہ امر جہاں ہماری عظمت کا موجب ہے وہاں ایک رنگ میں ہمارے لئے خطرہ کا موجب بھی بن رہا ہے کیونکہ ہمارا مرکز کمزور ہے اور بیرونی ممالک میں جماعتیں ترقی کر رہی ہیں۔ اگر مرکز میں ہماری تعداد زیادہ ہوتی اور ہمارے اندر اتنی طاقت ہوتی کہ ہم بیرونی ممالک کے بوجھ کو برداشت کر سکتے تو یہ ترقی یقیناً ہماری عظمت کا موجب ہوتی ۔ مگر اس وقت حالت یہ ہے کہ مرکز طاقتور نہیں اور ہر جگہ کے لوگ چلا رہے ہیں کہ مرکز ہماری مدد کرے ۔ پس بجائے اِس کے کہ یہ وسعت ہماری طاقت کا موجب ہوتی وہ ہماری کمزوری کا موجب بن رہی ہے۔ وو ہٹلر نے اپنے ابتدائی زمانہ میں ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام میری ”’ جد و جہد تھا۔ اس کتاب میں اس نے یہ بحث کی ہے کہ عمارت کی اونچائی کا انحصار اُس کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اگر بنیاد چوڑی اور مضبوط ہو تو اوپر کے حصہ کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ لیکن اگر بنیاد چھوٹی یا کمزور ہو گی تو وہ عمارت ہر وقت خطرہ میں گھری رہے گی اور پھر وہ زیادہ اونچی بھی نہیں جا سکے گی ۔ اس اصول