انوارالعلوم (جلد 21) — Page 545
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۴۵ علمائے جماعت اور طلبائے دینیات سے خطاب سوال اُٹھایا کہ اگر آپ اُنہی چیزوں کو قائم کرنے کے لئے آئے ہیں جو ہمارے پاس پہلے سے موجود ہیں تو پھر ہم آپ پر کیوں ایمان لائیں؟ جیسے اس زمانہ میں کہا جاتا ہے کہ جب مرزا صاحب انہی چیزوں کو قائم کرنے کے لئے آئے ہیں جو اسلام میں پائی جاتی ہیں تو ہم آپ کو کیوں مانیں ؟ ۔ اگر کہو کہ بعض عقائد میں تبدیلی پیدا ہو چکی تھی جن کی اصلاح ضروری تھی تو اس غرض کے لئے ہمارے مولوی کافی تھے مرزا صاحب پر ایمان لانا کہاں سے نکل آیا۔ یہی سوالات مسیحیوں کے سامنے آئے اب بجائے اِس کے کہ وہ اس لڑائی کو صبر اور استقلال اور دعاؤں سے فتح کرتے کچھ مدت کے بعد کمزور عیسائیوں نے گھبرا کر یہ کہنا شروع کر دیا کہ مسیح خدا کا بیٹا تھا وہ دنیا کے گناہوں کا کفارہ ہو گیا ۔ اُس نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ شریعت لعنت ہے۔ جب اس طرح ایک نئی چیز لوگوں کے سامنے پیش کی گئی تو لوگوں نے عیسائیت میں داخل ہونا شروع کر دیا۔ یہی خطرہ ہمارے سامنے ہے۔ ہماری کامیابی میں بھی سب سے بڑی مشکل لوگوں کا یہی سوال ہے کہ حضرت مرزا صاحب کیا لائے؟ اگر تو ہم نے استقلال سے کام لیا تو آہستہ آہستہ ہم اس لڑائی کو اِنْشَاءَ اللهِ فتح کر لیں گے لیکن اگر ہم نے بھی گھبرا کر کوئی غلط قدم اُٹھا لیا تو لوگ بے شک ہمارے اندر داخل ہو جائیں گے مگر ہم ایک نئی عیسائیت کی بنیا د رکھنے والے بن جائیں گے۔ پس یہ بھی ایک بڑی کٹھن منزل ہے جس کو ہم نے صبر اور استقلال اور دعاؤں سے طے کرنا ہے۔ اور یہ مشکل ایسی ہی ہے جیسے سانپ کے منہ میں چھپکلی ، اُگل دے تو کوڑھی ہو جائے اور نکلے تو مر جائے ۔ اگر ہم ان مشکلات کو قائم رہنے دیتے ہیں تو کامیابی کا حصول مشکل نظر آتا ہے اور اگر ہم اپنا پینترا بدل دیتے ہیں تو آپ بھی بے دین ہوتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی بے دین کرتے ہیں ۔ پس ہمیں بہت زیادہ غور و فکر اور ہوشیاری سے کام لینے کی ضرورت ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اسلام کو ایسے رنگ میں قائم کریں کہ نہ اسلام بدلے نہ اس کی تعلیموں میں کوئی تغیر ہوا اور نہ رسوا نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت اور آپ کے درجہ میں کوئی فرق آئے ۔ یہ ایک بہت ہی مشکل کام ہے جس کے لئے ہمیں پہلوں سے بہت زیادہ ہوشیار اور بیدار رہنے کی ضرورت ہے ۔