انوارالعلوم (جلد 21) — Page 469
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۶۹ اسلام اور ملکیت زمین وہ زمین اُن سے لی گئی تھی اور اُس شرط کے ماتحت لی گئی تھی جو بلال نے خود عائد کی تھی ۔ چنانچہ اس واقعہ کے متعلق جو اثر آتا ہے اُس کے الفاظ یہ ہیں ۔ حدثـنـي بـعض اشيا خي من اهل المدينة قال اقطع رسول الله الله بلال بن الحارث المزني مابين البحر والصخر فلما كان زمن عمر بن الخطاب قال له انك لا تستطيع ان تعمل هذا فطيب له ان يقطعها ماخلا المعادن فانه استثناها ۹۴ یعنی امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے میرے بعض اُستادوں نے جو مدینہ کے رہنے والے تھے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن الحارث المزنی کو سمندر اور پہاڑ کے درمیان کا تمام علاقہ عطا فرما دیا تھا ۔ جب حضرت عمر بن خطاب کا زمانہ آیا تو انہوں نے بلال سے کہا کہ آپ اس زمین کو آباد نہیں کر سکتے اور یہ زمین خالی پڑی ہے۔ اس بات کو سن کر بلال نے اپنی خوشی سے وہ زمین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو واپس کر دی اور اجازت دی کہ وہ اُس کو دوسرے لوگوں میں تقسیم کر دیں ۔ مگر شرط یہ کی کہ جتنی کانیں اس زمین میں ہوں گی اُن کا مالک میں ہی رہوں گا کوئی اور نہیں ہوگا ۔ اس طرح کانوں کو اُنہوں نے باقی حصوں سے مستثنیٰ کر لیا۔ پھینی ۔ اس حدیث کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہرگز بلال سے زمین نہیں ۔ پس اول تو اس حدیث سے یہ استدلال کرنا کہ کم سے کم حکومت اپنے ہدیہ کو تو واپس لے سکتی ہے درست نہیں ۔ دوسرے اس حدیث سے ثابت ہے کہ بلال نے اپنی مرضی سے یہ زمین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دی نہ کہ جبر یہ قانون کے ماتحت ۔ تیسرے اس حدیث سے ثابت ہے کہ بلال نے زمین کو واپس کرتے وقت ایک شرط بھی اپنی طرف سے پیش کی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اُسے تسلیم کر لیا اور وہ شرط یہ تھی کہ اُس میں سے جتنی کانیں نکلیں وہ بلال بن الحارث المزنی رضی اللہ عنہ کی ہوں گی ۔ یہ شرط اپنی ذات میں بتاتی ہے کہ بڑی زمینداریاں جائز ہیں کیونکہ کانوں کی ملکیت تو خالی زمین کی ملکیت سے بہت بڑی ملکیت ہوتی ہے ۔