انوارالعلوم (جلد 21) — Page 468
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۶۸ اسلام اور ملکیت زمین شراب بنانے لگ جائیں گے اور شراب پینے لگ جائیں گے اس لئے بہتر ہے کہ اس سے ان کو گلی طور پر روک دوں ۔ جب کچھ عرصہ بعد ان کی وہ عادت دُور ہو گئی تو آپ نے اس حکم کو بدل دیا۔ چنانچہ اب سارے مسلمان ان برتنوں کو استعمال کرتے ہیں کیا حنفی اور کیا وہابی اور کیا شافعی اور کوئی بھی ان سے منع نہیں کرتا ۔ اور علمائے حدیث اور فقہ یہی لکھتے ہیں کہ ان لوگوں کی شراب کی عادت چھڑوانے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گلی مناہی کا حکم دے دیا تھا جو بعد ا میں آپ نے منسوخ فرما دیا۔ دوسری دلیل پراونشل سندھ زمیندارہ کمیٹی کی اقلیت کی رپورٹ میں یہ دی گئی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بلال بن الحارث المزنی کو بُلا کر کہا کہ تمہارے پاس زمین زیادہ ہے اور تم اس کو کاشت نہیں کر سکتے ۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ زمین ضبط کر کے دوسرے لوگوں میں تقسیم کر دی ۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ اتنی ہی زمین کسی شخص کے پاس ہونی چاہئے جتنی زمین کی وہ کاشت کر سکے ۔ دوسرے یہ کہ حکومت کو زائد زمین ضبط کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس اعتراض کے متعلق بھی مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اصل حوالہ کو نہیں دیکھا گیا بلکہ دوسری کتابوں سے نقل کر لیا گیا ہے۔ اگر اصل حوالہ کو دیکھا جاتا تو معترض کو معلوم ہو جاتا کہ اس حوالہ کا مفہوم اُس سے بالکل مختلف ہے جو انہوں نے لیا ہے ۔ بلال بن الحارث المز نی کی زمین کے متعلق چھٹے باب میں یہ لکھا جا چکا ہے کہ یہ زمین نہ اُن کی جدی تھی نہ اُن کی خرید کردہ تھی بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو بیت المال سے عطیہ کے طور پر دی تھی ۔ اس لئے اگر معترض کا اعتراض درست بھی ہو تو زیادہ سے زیادہ اس کا اثر گورنمنٹ کے عطیوں پر پڑے گا اس سے زیادہ نہیں ۔ مگر میں اُوپر پوری طرح ثابت کر چکا ہوں کہ گورنمنٹ بھی اپنے عطیوں کو واپس نہیں لے سکتی سوائے اس کے کہ عطیہ مشروط ہو۔ اور جس کو زمین یا کوئی اور چیز عطیہ میں دی گئی ہو وہ اُس کی شرطوں کو پورا کرنے سے قاصر رہا ہو۔ بشرطیکہ وہ شرطیں جائز ہوں ۔ اور اگر بیچ ہو تو کوئی شرط ایسی نہ ہو جو بیع کے شرعی قواعد کے لحاظ سے ناجائز ہو ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے ہرگز وہ زمین بلال سے نہیں چھینی بلکہ اُن کی مرضی سے