انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 440

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۴۰ اسلام اور ملکیت زمین فيالمذهب لان فيه توسعة على الناس ۵۴ یعنی حنفیوں کے نزدیک زمین ٹھیکہ پر دینے کے متعلق اختلاف ہے۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک چاندی اور سونے کے سوا اور کسی رنگ میں مقاطعہ پر نہیں دی جاسکتی لیکن امام ابو یوسف اور امام محمد ان کے دونوں شاگرد کہتے ہیں کہ مقاطعہ پر دینا کلی طور پر جائز ہے اور انہی دونوں کے قول کے مطابق حنفیوں میں فتوی دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں لوگوں کے لئے زیادہ سہولت ہے ۔ امام ابو حنیفہ نے خیبر کی روایت کی یہ توجیہہ کی ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان تھا ۵۵ لیکن ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم احسان کے طور پر بھی کوئی ناجائز فعل تو نہیں کر سکتے تھے جو چیز منع تھی وہ ہر ایک کے لئے منع تھی ۔ دوسری توجیہہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے یہ مروی ہے کہ شاید امام کو بیت المال اور لوگوں کے درمیان معاملات طے کرنے میں خاص حق حاصل ہونگے جو دوسرے لوگوں کو باہم معاملات میں حاصل نہیں ۔ ۵۶ اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہ کو خود بھی تسلی نہیں کہ اصل وجہ کیا تھی کیونکہ وہ خود بھی تردد ظاہر کرتے ہیں کہ شاید یہ وجہ ہو یا یہ وجہ ہو۔ اور شاید کے ساتھ تو کوئی نص صریح باطل نہیں ہو سکتی ۔ ایک طرف نص ہے اور ایک طرف قیاس ۔ یہی وجہ تھی کہ اُن کے دونوں چوٹی کے شاگرد اس فتوی میں اُن کے خلاف تھے ۔ - یہ بھی غور طلب بات ہے کہ بٹائی کا طریق کیوں ناپسندیدہ ہے۔ اس کے ناپسندیدہ ہونے کی وجہ یہی بیان کی جاتی ہے کہ اس سے کسان کو نقصان پہنچتا ہے ۔ اگر یہ وجہ صحیح ہو تو یہ کس طرح درست ہو سکتا ہے کہ حکومت کے لئے تو یہ جائز ہو کہ وہ کسان کو نقصان پہنچائے لیکن عوام الناس کو کو جائز نہ ہو کہ وہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچائیں ۔ اگر اس سے کسان کو نقصان پہنچتا ہے اور اسی وجہ سے شریعت نے اس کو منع فرمایا ہے تو حکومت زیادہ حقدار ہے کہ وہ رعایا کے ساتھ احسان کرے اور اس بات کی زیادہ پابند ہے کہ رعایا کو نقصان نہ پہنچنے دے۔ پس اگر بٹائی کے نا درست ہونے کی جو وجہ بتائی جاتی ہے وہ درست ہے تو پھر عوام الناس کے لئے خواہ بٹائی جائز ہوتی حکومت کے لئے بالکل ناجائز ہونی چاہیے تھی کیونکہ وہ عوام الناس کے حقوق کی محافظ ہے۔