انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 439

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۳۹ اسلام اور ملکیت زمین گنجائش نہیں ۔ اور امام بخاری نے ایسا ہی روایت کیا ہے ۔ شاہ ولی اللہ صاحب کا بھی یہی مذہب تھا چنانچہ حجۃ اللہ البالغہ کی جلد ۲ صفحہ ۱۰۷ ، ۱۰۸ پر یہ عبارت درج ہے ۔ المساقاة ان تكون اصول اشجر لرجل فيكفي مؤونتها الاخر على ان تكون الثمر بينهما والمزارعة ان تكون الارض والبذر لواحد والعمل والبقر من الآخر والمخابرة ان تكون الارض لواحد والبذرو البقر والعمل من الاخر ونوع اخر ان يكون العمل من احدهما والباقى من الاخر ۔۔۔۔۔۔۔ وكان وجوه التابعين يتعاملون بالمزارعة ويدل على الجواز حديث معاملة اهل خيبر - ۵۳ شاہ ولی اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ مساقاة کا لفظ جو حدیثوں میں آتا ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ درخت کسی شخص کی ملکیت ہوں اور اُن کو پانی دینے کا کام یا دوسری خدمات کسی اور شخص کے سپرد ہوں اس شرط پر کہ پھل وہ آپس میں بانٹ لیں گے ۔ اور مزارعت یہ ہے کہ زمین اور بیج ایک کا ہو اور محنت اور جانور وغیرہ دوسرے کے ہوں اور پھر فصل آپس میں بانٹ لی جائے ۔ اور مخابرت یہ ہے کہ زمین ایک کی ہو اور پیج اور جانور اور محنت دوسرے کی ہو۔ اور ایک قسم اور بھی ہوتی ہے کہ صرف محنت ایک شخص کی ہو اور باقی سب اخراجات اور زمین دوسرے کے ہوں ۔ تابعیوں میں سے جو بڑے بڑے تابعی تھے وہ لوگ او پر جو مزارعت کی قسم لکھی ہے اُس پر عمل کیا کرتے تھے اور اہلِ خیبر سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو معاملہ کیا اُس سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے ۔ اوپر کی روایات سے ثابت ہے کہ غیر مشروط طور پر صرف امام ابو حنیفہ کے نزدیک ہی بٹائی نا جائز ہے باقی سب نے یا تو کلی طور پر اس کو جائز رکھا ہے یا مقید طور پر اس کو جائز رکھا ہے ۔ میں اوپر لکھ چکا ہوں کہ صرف امام ابو حنیفہ ہی ہیں جو کلی طور پر بٹائی کے خلاف ہیں اور یہ بھی واضح کر چکا ہوں کہ امام ابو یوسف اور امام محمد اُن کے دونوں بڑے شاگرد اُن کے اِس فتویٰ کو تسلیم نہیں کرتے ۔ چنانچہ اس کی سند میں علامہ نووی کا یہ حوالہ پیش ہے وہ فرماتے ہیں المزارعة مختلف فيها عند الحنفية فابو حنيفة يقول انها لا تجوز الا بالذهب والورق وابويوسف و محمد يقولان بجوازها مطلقا وقولهما هوا لمفتى به