انوارالعلوم (جلد 21) — Page 415
انوار العلوم جلد ۲۱ لدان اسلام اور ملکیت زمین خلاصہ یہ کہ قرآن کریم کی مختلف آیات سے زمینوں اور باغوں کی انفرادی ملکیت کا استدلال ہوتا ہے۔ احادیث بھی اس استدلال کی مؤید ہیں ۔ چنانچہ سنن ابوداؤ د باب ۲ فی اقطاع الارضین کے نیچے صفحہ ۴۳۷ پر لکھا ہے ۔ عن اسمر بن مضرس قال اتيت النبي ﷺ فبايعته فقال من سبق الى مالم يسبق اليه مسلم فهوله ۲۴ یعنی حضرت اسمر فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ کی بیعت کی ۔ اُس وقت میں نے سُنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ جس زمین پر کسی مسلمان کا قبضہ نہیں جو مسلمان بھی اُس پر قبضہ کرے وہ اُسی کی ملکیت ہو جائیگی ۔ اسی طرح بخاری کتاب المزارعہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ من اعمر ارضا لیست لاحد فهوا حق ۔ ۲۵ جو شخص کسی ایسی زمین پر قابض ہو جائے جو کسی اور کی نہیں تو وہی اُس کا جائز مالک ہوگا ۔ اِس حدیث سے ثابت ہے کہ جو زمین آپ کے زمانہ میں کسی کی مملو کہ تھی آپ نے اُس کی ملکیت کو جائز قرار دیا ہے اور مسلمانوں کو یہ نصیحت کی ہے کہ ایسی زمینوں پر قبضہ کرو جن کے دوسرے مالک نہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مطابق حضرت عمرؓ سے بھی ایک اثر ثابت ہے اور وہ یہ ہے کہ قال عمر من احيا ارضا ميتة فهى له ٢٦ جو شخص کسی ایسی زمین پر قبضہ کرے جس پر کوئی مسلمان قابض نہیں تو وہ اُس کا مالک قرار دیا جائے گا۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ارضِ موات جس پر قبضہ کرنا جائز رکھا گیا ہے وہ کیا چیز ہے؟ اور آیا اُس پر قبضہ کرنے کی کوئی شرائط بھی ہیں یا نہیں ؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ ارضِ موات سے مراد سرکاری زمینیں ہیں نہ کہ افراد کی زمینیں اور نہ وہ زمینیں جو کہ شہروں اور قصبات کے ارد گرد ہوتی ہیں اور زمینداروں کی مشترک ملکیت ہوتی ہیں ۔ اُنہیں کاشت میں نہیں لایا جاتا مگر وہ چراگاہوں کے طور پر، کھیل کے میدانوں کے طور پر، یا سوختنی لکڑیوں کے جنگلوں کے طور پر استعمال ہوتی ہیں ۔ چنانچہ کتاب بدائع الفقة الحنفیہ میں لکھا ہے الاراضي في الاصل نوعان ارض مملوكة وارض مباحة غير مملوكة والمملوكة نوعان عامرة وخرابوالمباحة نوعان ايضا ـ نـوع هـو مـن مـرافـق البلدة محتطبا لهم و مرعى