انوارالعلوم (جلد 21) — Page 414
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۱۴ اسلام اور ملکیت زمین فرماتا ہے۔ ولو لا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِنْ تَرَنِ أنَا أَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَوَلَدًا فَعَسَى رَبِّي أَن يُؤْتِينِ خَيْرًا مِّن جَنَّتِكَ وَ يُرْسِلُ عَلَيْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَاءِ فَتُصْبِحَ صَعِيدًا زَلَقَالَ یعنی مؤمن کافر سے کہتا ہے کہ جب تو اپنے باغ میں داخل ہوتا ہے تو تو یہ کیوں نہیں کہتا کہ خدا تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے اللہ تعالٰی کے سوا کسی کو کوئی طاقت حاصل نہیں ہے اور تو مجھ پر فخر جتاتا ہے کہ تیرے پاس مجھ سے زیادہ مال ہے اور تیری اولاد مجھ سے زیادہ ہے۔ پس تو یا د رکھ کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کر چکا ہے کہ وہ مجھے تیرے باغ سے بڑا باغ دے اور تیرے باغ پر آسمان پر سے ایک کنکروں والی آاندھی چلا دے اور تیرا باغ اُجڑی ہوئی زمین ہو کر رہ جائے ۔ گو یہ ایک مثال ہے لیکن اس سے یہ اصول ثابت ہو جاتا ہے کہ انسان بڑے بڑے باغوں کا بھی مالک ہو سکتا ہے اور باغ اور زمین میں کوئی فرق نہیں کیونکہ باغ زمین کے ساتھ وابسطہ ہوتا ہے۔ اسی طرح سورہ ابراہیم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گذشتہ انبیاء کی قوموں نے جب اُن کو دکھ دیا اور اُن کو دھمکی دی کہ وہ اُنہیں ملک سے نکال دیں گے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کو الہام کیا کہ ولتُسْكِنَنَّكُمُ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِهِمْ " ہم اپنی ذات ہی کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تم کو اس زمین میں بسا دیں گے ۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے اُن لوگوں کے زمین میں بسانے کو اپنی طرف منسوب کیا ہے اور جب ہم پہلی تاریخوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلی اُمتوں میں فرد واحد کی ملکیت کو تسلیم کیا گیا تھا۔ پس ہم بسا دیں گے“ کے الفاظ نے اس ملکیت کو نہ صرف جائز قرارد با ئز قرار دیا ہے بلکہ اس بات کا بھی اظہار فرمایا ہے کہ وہ ملکیت خدا تعالیٰ کے قانون کے مطابق تھی اور خدا تعالیٰ کی عطا کی ہوئی تھی ۔ اسی طرح سورہ بنی اسرائیل کے بارہویں رکوع میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ ارضِ مقدس میں بس جاؤ ۔ ۲۳ اِس بسنے کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔ اور جب ہم بائبل سے اس بسنے کی کیفیت معلوم کرتے ہیں تو اس میں زمین کی انفرادی ملکیت کا ثبوت ملتا ہے ۔