انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 275

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۷۵ اسلامی شعار اختیار کرنے میں ہی تمہاری کامیابی ہے سائیں سے کہا اچھا گاڑی لے جاؤ لیکن تیار رہنا اور حکم ملنے پر فورا لے آنا۔ ہمارا اندازہ تھا کہ کوئی گھنٹہ بھر تقریر ہو گی لیکن چونکہ حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی طبیعت خراب تھی اس لئے صرف دس پندرہ منٹ تقریر ہوئی اور آپ نے کہا گاڑی لاؤ۔ میں نے فوراً آدمی دوڑا یا گاڑی آنے میں دو چار منٹ کی دیر ہو گئی آپ ناراضگی کی حالت میں ہی پیدل چل پڑے۔ میں دیکھ رہا تھا کہ بیماری کی وجہ سے آپ کے قدم لڑکھڑا رہے ہیں مگر میں نے خیال کیا کہ جو ہو گیا سو ہو گیا ۔ آپ ابھی بورڈنگ کے دروازہ تک ہی پہنچے تھے کہ گاڑی آگئی لیکن پیشتر اس کے کہ میں گاڑی پیش کروں آپ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا ۔ مولوی محمد علی صاحب نے بھی کہا کہ ہاں یہ ان کی غلطی تھی حالانکہ میں نے اُن سے مشورہ کر لیا تھا۔ بہر حال میں نے عرض کیا کہ چونکہ ہمیں خیال تھا کہ حضور کی تقریر لمبی ہو گی اس لئے ہم نے گاڑی واپس بھیج دی۔ اس پر حضرت خلیفہ مسیح الاوّل نے خفگی کا اظہار فرمایا۔ مجھے اُس وقت بُرا تو محسوس ہوا لیکن میں نے اسے برداشت کیا اور سمجھا کہ آپ ہمارے بزرگ اور مقتدی ہیں آپ سے اگر ایک تلخ بات بھی میں نے سن لی تو کیا ہوا ۔ جب گاڑی آگئی تو میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ گاڑی حاضر ہے حضور ! اس پر سوار ہو جائیں چنانچہ آپ گاڑی پر سوار ہو گئے ۔ بہر حال تلخ بات کا سننا بھی مفید ہوتا ہے ہم سے پہلوں نے تلخ باتیں سنیں اور بلند مرتبہ حاصل کیا ، اگر بعد والے بھی تلخ باتیں سنیں گے تو بلند درجات حاصل کریں گے۔ ہاں انسان کو بے غیرت نہیں بننا چاہیے اور بات کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال نہیں دینا چاہیے۔ غیرت یہ ہے کہ انسان ایسی بات سنے تو اُسے بُرا تو لگے گا لیکن وہ سمجھے کہ میں نے ہی یہ بات کہلوائی ہے غصہ نہ منائے تا آئندہ اُسے اصلاح کا موقع ملے ۔ ۔ حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کے ساتھ بھی ایک دفعہ ایسا ہی ہوا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے ایک بھتیجے کو جو آپ کے پاس قادیان رہا کرتا تھا حکم دیا کہ وہ قادیان سے باہر چلا جائے اس لئے کہ وہ وہاں رہنے کے قابل نہیں تھا۔ وہ حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کے پاس گیا اور اس نے یہ واقعہ بیان کیا ۔ آپ نے فرمایا اب میں کیا کروں؟ پھر فرمایا اچھا ! میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس تمہاری سفارش کروں گا لیکن