انوارالعلوم (جلد 21) — Page 274
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۷۴ اسلامی شعار اختیار کرنے میں ہی تمہاری کامیابی ہے - ہوں اگر وہ تلخ باتیں سننے کے عادی ہو جائیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ کچھ عرصہ کے بعد ان میں یہ جذبہ پیدا ہو جائے گا کہ وہ اپنی ذات پر جرح کو سُن سکیں اور اس طرح اپنی اصلاح کر سکیں ۔ ہمارے خاندان کے بعض نوجوانوں میں کچھ ایسی باتیں پائی جاتی ہیں جو انسان کے اندر نزاکت پیدا کر دیتی ہیں یوں بھی بڑے لوگوں کے بچوں میں قدرتی طور پر نزاکت پیدا ہو جاتی ہے لیکن میں بہت حد تک اسے ناپسند کرتا ہوں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد ہونے کی وجہ سے لوگ ہمارا لحاظ کرتے ہیں اور پھر ہمارا خاندان ایک لمبے عرصہ تک حکومت کرتا چلا آیا تھا اس وجہ سے بھی ایک طرح غرور کا رنگ پیدا ہو جاتا ہے ۔ ہم جب سنتے ہیں کہ ہمارے بزرگ غرور کی وجہ سے دوسروں کی باتیں نہیں سنتے تھے تو ہم میں بھی یہ رنگ پیدا ہو جاتا ہے ۔ میرے لئے بھی ایک موقع ایسا آیا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ میں اُس موقع پر خدا تعالیٰ کے فضل سے پاس ہو گیا ۔ حضرت خلیفہ اسح الاول جب بیمار تھے اور آخری جلسہ پر تقریر کے لئے تشریف لے گئے تو اُن دنوں کسی بات پر آپ ہمارے بہنوئی نواب محمد علی خان صاحب مرحوم سے ناراض تھے ۔ جب جلسہ پر جانے کی ضرورت پیش آئی تو بیماری کی وجہ سے آپ چل تو سکتے نہیں تھے اور قادیان میں ان دنوں صرف ایک گاڑی تھی جس پر پیار آ جا سکتے تھے اور وہ نواب محمد علی خان صاحب مرحوم کی تھی ۔ حضرت خلیفہ امسیح الاول نے چاہا کہ کسی طرح گاڑی بھی مل جائے اور آپ کو بھی نہ کہنا پڑے۔ چنانچہ آپ نے مجھ سے فرمایا میاں ! تم نواب صاحب سے گاڑی منگواؤ ۔ چنانچہ میں نے نواب صاحب کو گاڑی کے ار نے کے لئے کہلا بھیجا اور اُنہوں نے گاڑی بھیج دی۔ اس پر حضرت خلیفہ اصبح الاول سوار ہو کر جلسہ میں تشریف لے گئے ۔ گاڑی کی خچریں بہت تیز تھیں جب گاڑی جلسہ گاہ ( مسجد نور ) کے پاس پہنچی تو خچریں دوڑ نے لگ پڑیں۔ سائیں نے مجھے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں گاڑی نواب صاحب کی کوٹھی لے جاؤں آپ جب گاڑی کے لئے آدمی بھیجیں گے تو میں فوراً آ جاؤں گا ۔ مولوی محمد علی صاحب بھی پاس ہی تھے میں نے مناسب سمجھا کہ اُن سے بھی اِس بارہ میں مشورہ کرلوں ۔ میں نے کہا مولوی صاحب ! خچریں دوڑتی اور شور کرتی ہیں سائیس کہتا ہے کہ اگر مجھے اجازت ہو تو انہیں نواب صاحب کی کوٹھی لے جاؤں جب آپ کہیں گے میں گاڑی لے آؤں گا ۔ اُنہوں نے کہا ہاں ٹھیک ہے۔ میں نے