انوارالعلوم (جلد 20) — Page 86
انوار العلوم جلد ۲۰ ۸۶ دیبا چه تفسیر القرآن نشان ظاہر ہوا۔ یعنی جیسے یونس نبی تین دن اور تین رات مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسے ہی ابن آدم تین دن اور تین رات قبر میں رہے گا تو وہ تین دن اور تین رات زمین کے اندر کس طرح رہے؟ وہ واقعات جو اناجیل میں بیان کئے گئے ہیں وہ تو اس کی تصدیق نہیں کرتے ۔ جب عیسائیوں نے دیکھا کہ ان کیلئے اس اعتراض سے بچاؤ کی کوئی صورت نہیں تو انہوں نے اس آیت میں تحریف سے کام لیا اور موجود اناجیل میں بجائے تین دن اور تین رات کے تین رات دن 66 کر دیا ۔ اس طرح انہوں نے گو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے اعتراض سے بچانے کی کوشش کی ہے لیکن در حقیقت انہوں نے اپنے عمل سے ایک دفعہ پھر اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ اناجیل میں تحریف و تبدیل ہوتی چلی آئی ہے اور اب بھی عیسائی ضرورت محسوس ہونے پر اس میں تحریف و تبدیل کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں ۔ جب حالات یہ ہیں تو ایسی کتاب کے متعلق یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ وہ بنی نوع انسان کی رہنمائی کا فرض سرانجام دے سکتی ہے ۔ یا کوئی شخص کس طرح اس کی آیات کے متعلق یہ یقین سے کہہ سکتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں ۔ جب عیسائی آج بھی اس کی آیات میں تبدیلی کرنے سے احتراز نہیں کرتے تو کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ پہلے جو کچھ انہوں نے لکھا تھا وہ خدا تعالیٰ کا کلام تھا۔ پس اناجیل میں تحریف و تبدیل کا متواتر ہوتے چلے آنا ثبوت ہے اس بات کا کہ موجودہ اناجیل خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور وہ روحانی نقطۂ نگاہ سے بنی نوع انسان کے لئے کسی صحیح راہنمائی کا باعث نہیں ہو سکتیں ۔ انا جیل میں اختلافات انا جیل کے اندر جو اختلافات پائے جاتے ہیں وہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کی کتاب نہیں ۔ یا یہ کہ بعد میں انسانی دست بُرد نے اس کو بالکل بدل ڈالا کیونکہ ایک معقول انسان اپنی لکھی ہوئی کتاب میں اختلافات کو روانہیں رکھتا تو پھر خدا کی کتاب میں اختلافات کیونکر پائے جا سکتے ہیں ۔ ہم ذیل میں مثال کے طور پر نئے عہد نامہ کے چند اختلافات بیان کرتے ہیں ۔